سورة یوسف - آیت 108

قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر) تم کہہ دو میری راہ تو یہ ہے، میں اس روشنی کی بنا پر جو میرے سامنے ہے اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور (اس راہ میں) جن لوگوں نے میرے پیچھے قدم اٹھایا ہے وہ بھی (اسی طرح) بلاتے ہیں، اللہ کے لیے پاکی ہو، میں شرک کرنے والوں میں نہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٩٤) نبی کریم سے کہا جارہا ہے کہ آپ مشرکین سے کہہ دیجیے کہ ایمان باللہ اور توحید باری تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلانا میرا طریقہ، میرا مسلک اور میری سنت ہے، میں اور میرے ماننے والے مومنین واضح دلیل و برہان کی بنیاد پر لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے ہیں، اور میرا ایمان ہے کہ اللہ کی ذات ہر عیب و نقص سے پاک ہے، اس کا نہ کوئی شریک ہے، نہ مقابل، نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ بیوی، وہ ان تمام عیوب و نقائص اور تمام کمزوریوں سے یکسر پاک ہے اور میں مشرکوں کے دین پر نہیں ہوں، اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ اسلام کی دعوت دلیل و حجت کی بنیاد پر ہے۔ قرآن کریم نے اسی کی تعلیم دی ہے، نبی کریم اور صحابہ کرام اسی منہج پر قائم رہے، انہوں نے لوگوں کو دلائل کے ذریعہ قانع کرنے کی کوشش کی، یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم کے ماننے والے ہر دور میں اللہ کی مخلوق کو اس کی توحید و عبادت کی دعوت دیتے رہیں گے، اور دعوت میں حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ گفتگو مخاطب کی عقل و سمجھ کے مطابق ایسی صاف ستھری ہو کہ وہ آسانی کے ساتھ قرآن و سنت کی دعوت کو سمجھ لے، اور داعی الی اللہ کا فرض ہے کہ جب تک زندہ رہے بھلائی کا حکم دیتا رہے اور برائی سے روکتا رہے، اس لیے کہ اس کی خاموشی دنیا میں فساد کو پھیلنے کا موقع دے گی، بھلائی دب جائے گی اور برائی سر اٹھا کر دندناتی پھرے گی۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔