سورة البقرة - آیت 158

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

بلاشبہ صفا اور مروی (نامی دو پہاڑیا) اللہ کی (حکمت و رحمت کی) نشانیوں میں سے ہیں پس جو شخص حج یا عمرہ کی نیت سے اس گھر کا (یعنی خانہ کعبہ کا) قصد کرے تو اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان طواف کے پھیرے کرلے۔ اور جو کوئی خوش دلی کے ساتھ نیکی کا کوئی کام کرتا ہے، تو اللہ ہر عمل کی اس کی منزلت کے مطابق قدر کرنے والا، اور سب کچھ جاننے والا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

234: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دی ہے کہ صفا اور مروہ دونوں پہاڑیاں اس کے دین کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لیے جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے، اس کے لیے ان دونوں کے درمیان سعی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ کا شان نزول یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اوس و خزرج کے لوگ اسلام سے پہلے مناۃ بت کی پرستش کرتے تھے، جو مقام مشلل میں تھا، اور اس کا تلبیہ پڑھتے تھے، اور جو لوگ اس بات کا تلبیہ پڑھتے تھے وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کو گناہ سمجھتے تھے، اس لیے اسلام لانے کے بعد انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ ہم لوگ جاہلیت کے دور میں صفا و مروہ کے درمیان سعی کو گناہ سمجھتے تھے، اب اس بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے؟ تو قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی۔ امام زہری، ابوبکر بن عبدالرحمن سے ایک دوسری روایت بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ صفا و مروہ کے درمیان سعی کو دور جاہلیت کا عمل سمجھتے تھے، اور انصار کے کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمیں بیت اللہ کے طواف کا حکم تو دیا گیا ہے، صفا و مروی ہے کے درمیان سعی کا نہیں، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ایک اور روایت ہے کہ صفا و مروہ دونوں پہاڑیوں پر اساف اور نائلہ نام کے دو بت تھے، دور جاہلیت میں لوگ ان دونوں کے درمیان دوڑتے تھے، اسلام آنے کے بعد دونوں بتوں کو پھینک دیا گیا تو لوگوں نے کہا کہ سعی دونوں بتوں کے لیے تھی، اس لیے سعی کرنا بند کردیا، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابو بکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ممکن ہے ان تمام ہی قسم کے لوگوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہو، صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کے طواف کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور فرمایا سعی کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر سعی کو واجب قرار دیا ہے اور حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ صٖفا اور مروہ کے درمیان طواف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے، اس لیے کسی کے لیے اسے چھوڑ دینا جائز نہیں (صحیحین) فائدہ : صفا و مروہ کے درمیان سعی حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی دوڑ کی یاد گار ہے۔ جب کھانا اور پانی ختم ہوگیا، اور اپنے بچے کو پیاس کے مارے بلبلاتے دیکھاتو نہایت اضطراب و پریشان کے عالم میں اللہ کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ دونوں پہاڑیوں کے درمیان لگانے لگیں، تو اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور زمزم کا چشمہ پھوٹ پڑا، اور ان کا کرب و الم دور ہوا، اس لیے سعی کرنے والے کو چاہئے کہ اپنے دل میں اللہ کے سامنے اپنی ذلت و محتاجی کا تصور کرے، اپنے گناہوں سے معافی مانگتا رہے، اور دعا کرتا رہے کہ اللہ اس کے دل کی حالت بہتر بنا دے اور اس کے عیوب و نقائص کو دور کردے۔