سورة البقرة - آیت 156

الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کبھی کوئی مصیبت ان پر آن پڑتی ہے تو (بے قرار ہونے کی جگہ ذکر الٰہی سے اپنی روح کو تقویت پہنچاتے ہیں، اور) ان کے زبان حال کی یہ صدا ہوتی ہے کہ انا للہ وانا الیہ راجعون !(ہماری زندگی اور موت، رنج و غم، سود و زیاں، جو کچھ بھی ہے سب کچھ اللہ کے یلے ہے، اور ہم سب کو بالاآخر مرنا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

232: صبر کرنے والوں کی اللہ نے یہ صفت بتائی کہ جب انہیں کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو فوراً اللہ کی تقدیر پر اپنی رضا کا اظہار کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ اللہ کے غلام ہیں، ہماری جانیں اور ہمارے اموال سب کچھ اللہ کی ملکیت ہیں اس لیے ارحم الراحمین اگر اپنے غلاموں اور ان کے اموال میں تصرف کرتا ہے، تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔