سورة البقرة - آیت 153

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مسلمانو ! صبر اور نماز (کی معنوی قوتوں) سے سہارا پکڑو۔ یقین کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

228: اللہ تعالیٰ نے بندون خو شکر ادا کرنے کا حکم دینے کے بعد، اس آیت میں صبر اور نماز کی اہمیت بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ مومن کی زندگی میں ان دونوں چیزوں کی بڑی اہمیت ہے، اور اللہ کی راہ میں مصائب کو جھیل جانے کا اہم ترین نسخہ صبر اور نماز ہے۔ اسی لیے تو اللہ نے اسی سورت کی آیت 45 میں فرمایا ہے، آیت واستعینوا بالصبر والصلاۃ وانہا لکبیرۃ الا علی الخاشعین۔ اور تم لوگ صبر اور نماز سے مدد لو، اور یہ نماز اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرنے والوں کے علاوہ لوگوں پر بڑا بھاری گذرتا ہے۔ اور مسند احمد میں حذیفہ بن یمان (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی اہم معاملہ پیش آتا، تو نماز پڑھتے تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صبر کی تین قسمیں ہیں : 1۔ محرمات اور معاصی سے اجتناب پر صبر کرنا۔ 2۔ اعمال صالحہ اور اللہ کی اطاعت ٦ پر صبر کرنا۔ 3۔ مصائب و حادثات زمانہ پر صبر کرنا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح) اپنی کتاب السیاسۃ الشرعیۃ میں لکھتے ہیں کہ حاکم کے لیے بالخصوص اور رعایا کے لیے بالعموم تین چیزیں عظیم مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ 1۔ اللہ کے لیے اخلاص، اور دعا اور غیر دعا کے ذریعہ اس پر توکل، اور دل و جان سے نماز کی حفاظت و پابندی، جو اللہ کے لیے اخلاص کی اصل ہے۔ 2۔ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنا اور زکاۃ ادا کرنا۔ 3۔ تکلیف، مصیبت اور حادثاتِ زمانہ کے وقت صبر کرنا۔ انتہی۔ 229: اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور یہاں (معیت) سے مراد ” معیت خاصۃ“ ہے، جو اللہ کی محبت اور اس کی نصرت و قربت پر دلالت کرتی ہے۔ یعنی اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، ان سے محبت کرتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے۔ اور صبر کرنے والوں کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوسکتی ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور معیت کی ایک دوسرے قسم معیت عامہ ہے یعنی اللہ اپنی علم وقدرت کے ذریعہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے وھو معکم این ما کنتم۔ اور یہ معیت تمام مخلوق کے لیے ہے۔