سورة البقرة - آیت 151

كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

یہ اسی طرح کی بات ہوئی جیسے یہ ہوئی کہ ہم نے تم میں سے ایک شخص کو اپنی رسالت کے لیے چن لیا۔ وہ ہماری آیتیں تمہیں سناتا ہے (اپنی پیغمبرانہ تربیت سے) تمہارے دلوں کو صاف کرتا ہے، کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور وہ باتیں سکھلاتا ہے جن سے تم یکسر نا آشنا تھے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

227: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو ! اگر آج ہم نے تمہیں کعبہ بطور قبلہ عنایت کیا ہے، اور شریعت اسلامیہ جیسی نعمت سے نوازا ہے، تو ہم نے اس سے پہلے تمہارے پاس اپنا رسول بھیجا ہے تو جو تم ہی میں سے ہیں، تمہیں قرآن پڑھ کر سناتے ہیں، بے مثال تربیت کے ذریعہ تمہیں دین اور اخلاقی خرابیوں سے پاک کرتے ہیں اور قرآن و سنت کی تعلیم دیتے ہیں، نیز وہ تمام اچھی باتیں سکھاتے ہیں جو تم جانتے نہ تھے، اور جو انسان کو دنیا و آخرت میں بلند وبالا کرتی ہیں۔ ان احسانات کا تقاضا یہ ہے کہ تم مجھے یاد کرتے رہو اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں یاد کرتا رہوں گا، اور میرا شکر ادا کرتے رہو، اور کفرانِ نعمت نہ کرو، امام احمد اور امام بخاری نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ عز وجل کہتا ہے میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں۔ الحدیث اور امام مسلم نے ابوسعید خدری اور ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے، ان دونوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں گواہی دی کہ آپ نے فرمایا : جب کوئی جماعت اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھتی ہے تو فرشتے انہیں گھیرے میں لے لیتے ہیں، رحمت انہیں ڈھانک لیتی ہے، ان پر سکون و اطمینان نازل ہوتا ہے، اور اللہ انہیں پاس رہنے والوں کے درمیان یاد کرتا ہے۔ فائدہ : ذکرِ الٰہی صرف تسبیح و تہلیل اور تحمید و تکبیر میں منحصر نہیں ہے، بلکہ ہر وہ عمل جو قرآن و سنت کے مطابق ہو، اور جس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہو وہ ذکر الٰہی ہے۔ امام ابن القیم (رح) وسلم فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ اللہ کو یاد کرنے والے تھے، ان کی گفتگو، ان کا امر و نہی، اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات، احکام و افعال اور وعدہ و وعید کے بارے میں ان کی حدیثیں، ان کا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا، اللہ تعالیٰ سے سوال و دعا، جنت کی رغبت دلانا، اور جہنم سے ڈرانا، ان کی خاموشی، سب کچھ ذکر الٰہی تھا۔ وہ ہر وقت اور ہر حال میں، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھے، سوتے جاگتے اور سفر و حضرت میں اللہ کی یاد میں مشغول رہتے تھے، انتہی۔ ذکر الٰہی کے وہ تمام طریقے اور وہ حرکات و سکنات جو گمراہ صوفیا نے ایجاد کرلیے ہیں، جن کا ثبوت صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ کرام سے نہیں ملتا، بدترین بدعت ہیں، انہوں سماع کے نام سے اپنی محفلوں میں رقص و موسیقی کو داخل کردیا، اور مسلمانوں کو قرآن سننے اور سنانے سے روک دیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب جمع ہوتے تھے تو ان میں کا ایک قرآن پڑھتا تھا، اور باقی لوگ سنتے تھے۔ حضرت عمر رضٰ اللہ عنہ ابو موسیٰ اشعری (رض) سے کہتے تھے، ذکرنا ربنا، کہ ہمیں ہمارے رب کی یاد دلاؤ، چنانچہ وہ قرآن پڑھتے اور عمر سنتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، آیت اذ تتلی علیہم آیات الرحمن خروا سجدا وبکیا، جب ان کے سامنے اللہ کے قرآن کی تلاوت ہوتی ہے تو وہ سجدے میں روتے ہوئے گر پڑتے ہیں (مریم : 58)۔ ایک دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا ہے۔ آیت اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا مثانی تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربہم ثم تلین جلودھم وقلوبہم الی ذکر اللہ۔ کہ اللہ نے سب سے اچھی حدیث نازل کی ہے جو اسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے جس سے ان لوگوں کے جسم کانپ اٹھتے جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں۔ پھر ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف جھک جاتے ہیں۔ الزمر : 23)۔ معلوم ہوا کہ قرآن وسنت کے حدود میں رہ کر اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت مبارکہ کے سانچے میں اپنی زندگی کو ڈھالنا، قرآن کریم کی تلاوت اور قرآن کریم کو سمجھنا اور سمجھانا، ذکر الٰہی کے صحیح طریقے ہیں۔ وہ تسبیحات جن کا ثبوت قرآن و سنت سے نہیں ملتا، مثلاً پالتی مار کر اور آنکھیں بند کر کے بیٹھ جانا اور دعوی کرنا کہ اللہ کا تصور دل و دماغ میں بسایا جا رہا ہے، حق ھو کے نعرے لگانا، دل پر لا الہ الا اللہ کی ضربیں لگانا، حلقے بنا کر بیٹھ جانا اور سری یا جہری ذکر میں بزعم خود مشغول ہونا، یہ اور اس قسمکے افعال و حرکات کا، مشروع ذکرِ الٰہی سے کوئی تعلق نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ہر وہ کام جس کا ثبوت ہماری شریعت میں نہیں ملتا، وہ مردود ہے۔ چاہے وہ کوئی عقیدہ ہو کوئی نظریہ ہو کوئی قول وعمل ہو، اور چاہے ذکر کے خود ساختہ طریقے ہوں، سبھی کچھ مردود ہے اگر قرآن و سنت سے اس کو ثبوت نہیں ملتا، اگر کوئی شخص زندگی بھر مراقبہ میں بیٹھا رہ جائے اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ وہ اللہ کی یاد میں مشغول ہے، لیکن اس کے اس عمل کا ثبوت قرآن وسنت سے نہیں ملتا، تو اس کی ساری محنت بے کار ہے، بلکہ قیامت کے دن وبال جان بن کر اس کے سامنے آئے گی۔