سورة ھود - آیت 74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَىٰ يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر جب ابراہیم کے دل سے اندیشہ دور ہوگیا اور اسے خوشخبری ملی تو قوم لوط کے بارے میں ہم جھگڑنے لگا (یعنی ہمارے فرستادوں سے بار بار سوال و جواب کرنے لگا کہ آنے والی بلا ٹل جائے)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦١) جب ابراہیم کے دل سے ڈر نکل گیا، اور انہیں بیٹے اور پوتے کی خوشخبری مل گئی، تو قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے کہنے لگے کہ وہاں لوط اور کچھ دیگر مسلمان بھی ہیں، ان کا کیا حال ہوگا، اور ان کا مقصد یہ تھا کہ اسی بہانے اللہ قوم لوط سے عذاب کو ٹال دے، اس لیئے کہ ابراہیم بڑے ہی بردبار اور بڑے ہی رحم دل تھے برا کرنے والوں سے انتقام لینے میں جلدی نہیں کرتے تھے، اور ہر دم اللہ سے لو لگائے رہتے تھے۔