سورة ھود - آیت 13

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر کیا یہ لوگ ایسا کہتے ہیں کہ اس آدمی نے قرآن اپنے جی سے گھڑ لیا ہے؟ (اے پیغمبر) تو کہہ دے اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو اس طرح کی دس سورتیں گھڑی ہوئی بنا کر پیش کردو، اور اللہ کے سوا کسی کو (اپنی مدد کے لیے) پکار سکتے ہو پکار لو۔ (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٢) جب کفار مکہ نے وحی الہی کا انکار کردیا اور رسول اللہ پر اتہام دھرا کہ قرآن ان کا کلام ہے اللہ کا نہیں، تو اللہ نے چیلنج کردیا کہ اگر یہ اللہ کا کلام نہیں ہے، محمد کا کلام ہے تو پھر تم اس جیسی دس سورتیں ہی لاکر دکھاؤ، سورۃ یونس آیت (٣٩) کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عربوں کو قرآن کریم جیسا کلام لانے کا چیلنج کئی مراحل میں کیا تھا، پہلے کہا کہ اگر تم یہ کہتے ہو کہ یہ قرآن محمد کا کلام ہے تو اس جیسا تم بھی پیش کرو، جب عاجز و ساکت رہے تو اس آیت میں کہا کہ اگر پورا قرآن نہیں تو اس جیسی کم از کم دس سورتیں ہی پیش کردو، جب اس سے بھی عاجز رہے تو سورۃ یونس والی آیت میں کہا کہ کم از کم ایک ہی سورت اس جیسی لے آؤ، اور سورۃ طور آیت (٣٤) میں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے زبان دانی کی تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی، جب کہا کہ اگر تم سچے ہو تو قرآن جیسی ایک بات بھی لا دو، اور عربوں کے تمام فصحاء و بلغاء اور ادباء و شعراء پرگنگ طاری رہی، اور آج تک کوئی اس چیلنج کا جواب نہ دے سکا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آیت (١٤) میں فرمایا کہ مسلمانو ! اگر کفار عرب تمہارے اس چیلنج کا جواب نہ دے سکیں، تو تمہارے علم و یقین میں اضافہ اور پختگی آجانی چاہیئے کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے ہیں، اس لیے کہ اس قرآن کا معجزانہ نظم اور اس کی ترتیب کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے، اور اس میں جن غیبی امور کی خبر دی گئی ہے انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا ہے، اور تمہیں اس بات کا بھی پختہ یقین ہونا چاہیے کہ یہ اس اللہ کا کلام ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ غیروں کو اس کا شریک بنانا ظلم عظیم ہے۔