سورة یونس - آیت 108

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہہ دو کہ اے لوگو ! تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی تمہارے پاس آگئی ہے، پس جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا تو اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا اور جو بھٹکے گا تو اس کی گمراہی اسی کے آگے آئے گی۔ میں تم پر نگہبان نہیں ہوں (کہ زبردستی کسی راہ میں کھینچ لے جاؤں اور پھر اس سے نکلنے نہ دوں)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦٧) یہاں بھی نبی کریم کی زبانی تمام بنی نوع انسان کو بتایا جارہا ہے کہ لوگو ! تمہارے رب کی جانب سے برحق قرآن نازل ہوچکا ہے، جو دین برحق دین اسلام کی مکمل ترجمانی کر رہا ہے، اب اگر کوئی اس ہدایت کو قبول کرتا ہے تو اس کا فائدہ اسی کو پہنچے گا، اور اگر کوئی اس کے بعد بھی گمراہ ہوجاتا ہے تو اس کی سزا اسی کو بھگتنی پڑے گی، اور میں تمہاری ہدایت کا ذمہ دار نہیں ہوں، میرا کام تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آخری آیت میں آپ کو تاکید کی کہ آپ پر جو وحی نازل ہوتی ہے اسی کی اتباع کیجیے، یعنی کسی دوسرے قول کی اتباع نہ کیجیے، اور دعوت کی راہ کٹھن ہوتی ہے، اس لیے اس راہ میں کفار و مشرکین کی جانب سے آپ کو جو بھی تکلیف پہنچے اس پر صبر کیجیے، یہاں تک کہ مشرکین کے بارے میں اللہ کا کوئی فیصلہ آجائے۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو جہاد کا حکم دیا، اور میدان بدر اور دیگر جنگوں میں ان میں سے کچھ تو قتل ہوئے اور کچھ پابند سلاسل کرلیے گئے، یہاں تک کہ پورا جزیرہ عرب حلقہ بگوش اسلام ہوگیا۔