سورة یونس - آیت 75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر ہم نے ان رسولوں کے بعد موسیٰ اور ہارون کو بھیجا، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، وہ ہماری نشانیاں اپنے ساتھ رکھتے تھے، مگر فرعون اور اسکے درباریوں نے گھمنڈ کیا، ان کا گروہ مجرموں کا گروہ تھا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥٣) موسیٰ اور ہارون کی جلالت شان اور فرعون کے ساتھ عقیدہ توحید کے سلسلے میں ان کا جو مناظرہ ہوا اس کی خاص اہمیت کے پیش نظر ان کا ذکر مستقل طور پر کیا گیا ہے، جب موسیٰ اور ہارون علیہما السلام دعوت توحید لے کر فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس گئے تو انہوں نے استکبار سے کام لیا، اور اسے قبول کرنے سے انکار کردیا، اس لیے کہ ان کے سابقہ جرائم کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی، اور جب آسمانی معجزوں کے آگے اپنے آپ کو بے بس پایا تو کہنے لگے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں جواب دیا کہ کیا تم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے حق کو جادو کہتے ہو؟ یہ جادو کیسے ہوسکتا ہے؟ اگر جادو ہوتا تو تمہارے ماہر جادوگروں پر میں کیسے غالب آجاتا، اور ان کے جادو کو میں کیسے یکسر ناکام بنا دیتا، جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا، جب فرعون نے اس قطعی دلیل کے سامنے اپنے آپ کو بالکل عاجز پایا تو کہنے لگا کہ کیا تم ہمیں ہمارے آباء و اجداد کے دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہو؟ اور کیا تم چاہتے ہو کہ ہم تمہیں اپنا حاکم و آقا مان لیں؟ ایسا نہیں ہوسکتا ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ شوکانی لکھتے ہیں کہ اسی دنیاوی بڑائی اور کرسی کی محبت نے ہر دور میں کتنوں کو قبول حق سے روک دیا، اور اپنے آپ کو باطل پر سمجھتے ہوئے، اس پر اصرار کیا، اسی بیماری کی وجہ سے کتنے کفر پر، کتنے بدعت پر، اور کتنے صحیح حدیث ہونے کے باوجود اپنی فاسد رائے پر جمے رہے۔