سورة یونس - آیت 66

أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ ۗ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ شُرَكَاءَ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

یاد رکھو وہ تمام ہستیاں جو آسمانوں میں ہیں اور وہ سب جو زمین میں ہیں اللہ ہی کے تابع فرمان ہیں، اور جو لوگ اللہ کے سوا اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں تم جانتے ہو وہ کس بات کی پیروی کرتے ہیں؟ (کیا یقین و بصیرت کی؟ نہیں) محض وہم و گمان کی، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ (ہر بات میں) اپنی اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤٩) آسمانوں و زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے، لیکن اس کے باوجود مشرکین ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں، جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے، اور مشرکین کے پاس بتوں کی عبادت کے جواز میں سوائے خیالات و اوہام کے کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔ آیت (٦٧) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قادر مطلق ہونے کی ایک اور دلیل پیش کی ہے کہ رات کو سکون کے لیے اور دن کی روشنی کام کرنے کے لیے اسی نے بنائی ہے، تو پھر اس کے علاوہ کون عبادت کا حقدار ہوسکتا ہے؟ یقینا وہی ذات واحد ہر قسم کی بندگی اور خشوع و خضوع کا مستحق ہے۔