سورة یونس - آیت 61

وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ۚ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (اے پیغبر) تم کسی حال میں ہو اور قرآن کی کوئی سی آیت بھی پڑھ کر سناتے ہو اور (اے لوگو) تم کوئی سا کام بھی کرتے ہو مگر وہ بات کرتے ہوئے ہماری نگاہوں سے غائب نہیں ہوتے اور نہ تو زمین میں نہ آسمان میں کوئی چیز تمہارے پروردگار کے علم سے غائب ہے، ذرہ بھر کوئی چیز ہو یا اس سے چھوٹی یا بڑی سب کچھ ایک کتاب واضح مندرج ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤٦) نبی کریم کو خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے، وہ ذات باری تعالیٰ آپ، آپ کی امت، اور تمام مخلوقات کے حالات سے ایک ہی وقت میں باخبر رہتا ہے، اس لیے صرف وہی عبادت کے لائق ہے، بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس میں ان لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جزئیات کی خبر نہیں رکھتا ہے۔