سورة یونس - آیت 35

قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ ۚ قُلِ اللَّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ان سے پوچھو کیا تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو حق کی راہ دکھاتا ہے؟ پھر جو حق کی راہ دکھائے وہ اس کا حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ خود ہی راہ نہیں پاتا جب تک اسے راہ نہ دکھائی جائے؟ (افسوس تم پر) تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم کیسے فیصلے کر رہے ہو؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٠) ان مشرکین کے خلاف ایک اور حجت قائم کی جارہی ہے، کہ اے میرے نبی ذرا سن سے یہ بھی تو پوچھیے کہ کیا تمہارے شرکاء میں کوئی ہے جو بھٹکتے ہوئے انسانوں کی رہنمائی کرے؟ آپ کہہ دیجیے کہ یقینا جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں ہے، وہ صرف اللہ ہے جو اس پر قادر ہے، تو پھر عبادت صرف اسی کی ہونی چاہیے نہ کہ ان بتوں کی جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے میں بھی دوسروں کے محتاج ہیں، یہ کیسی تمہاری کم عقلی ہے اور کیسا جائرانہ فیصلہ ہے؟