سورة یونس - آیت 30

هُنَالِكَ تَبْلُو كُلُّ نَفْسٍ مَّا أَسْلَفَتْ ۚ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پس اس دن ہر آدمی جانچ لے گا کہ جو کچھ وہ پہلے کرچکا ہے اس کی حقیقت کیا تھی، سب اللہ کے حضور کہ ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور حقیقت کے خلاف جس قدر افترا پردازیاں کرتے رہے ہیں سب ان سے کھوئی جائیں گی۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٦) میدان محشر میں جب نفسی نفسی کا عالم ہوگا اور ہر آدمی پر خوف طاری ہوگا، ہر ایک شخص اپنے اچھے اور برے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوگا، کچھ لوگوں کے اعمال رد کئے جارہے ہوں گے، تو کچھ کے قبول کیے جارہے ہوں گے، کچھ کے نیک اعمال بہت ہی اچھی شکل میں ان کے سامنے آئیں گے اور کچھ کے برے اعمال بہت بدشکل ہوں گے، اور ہر آدمی اپنے دنیاوی اعمال کا مزہ اپنے کام و دہن اور دل و دماغ میں محسوس کررہا ہوگا، اس وقت تمام جھوٹے معبود غائب ہوچکے ہوں گے، اور تمام بنی نوع انسان اپنے مولائے حقیقی کے روبرو ہوں گے جو بلا شرک غیرے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔