سورة یونس - آیت 28

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَاؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (دیکھو) جس دن ایسا ہوگا کہ ہم ان سب کو اپنے حضور اکٹھا کریں گے اور پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے تم اور وہ سب جنہیں تم نے شریک ٹھہرایا تھا اپنی جگہ سے نہ ہلو، (یعنی اپنے مقام میں رکے رہو، آگے نہ بڑھو) اور پھر ایسا ہوگا کہ ایک دوسرے سے انہیں الگ الگ کردیں گے (یعنی شرک کرنے والوں میں اور ان میں جنہیں شریک بنایا گیا امتیاز پیدا ہوجائے گا) تب وہ ہستیاں جنہیں خدا کے ساتھ شریک بنایا گیا ہے کہیں گی : یہ بات تو نہ تھی کہ تم ہماری ہی پرستش کرتے تھے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٥) جن لوگوں نے دعوت اسلام کو ٹھکرا دیا، اور شرک باللہ کی راہ کو اختیار کیا، جب میدان محشر میں اپنے شرکاء کے ساتھ اکٹھا کیے جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ تم سب اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو، یہاں تک کہ تمہیں اپنے شرک کا انجام معلوم ہوجائے، اس کے بعد مشرکین اور ان کے شرکاء کے درمیان کے تمام تعلقات ختم کردیے جائیں گے، مشرکین کو اپنے شرکاء سے کسی شفاعت کی امید باقی نہیں رہے گی، اور شرکاء اپنا دامن جھٹک کر کہہ پڑیں گے کہ تم ہماری نہیں بلکہ شیطان کی عبادت کرتے تھے۔ اور اللہ شاہد ہے کہ نہ ہم نے تمہیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا اور نہ ہم نے ایسا چاہا تھا اور نہ ہمیں اس کا کچھ علم ہے، اس وقت مشرکین کی بے بسی اور حسرت و یاس کا کیا عالم ہوگا، اس کا تصور اس جہاں میں نہیں کیا جاسکتا، ان شرکاء میں انسان، جن، فرشتے اور پتھر کے بنے بت سبھی ہوں گے، فرشتے، انبیاء اور نیک لوگ تو اپنی زبانوں سے اعلان برات کردیں گے، اور وہ دنیا میں بھی ان شرکیہ اعمال سے راضی نہیں تھے، اور جو پتھر کے بنے بت ہوں گے انہیں بھی اللہ تعالیٰ اس دن قوت گویائی دے گا تاکہ مشرکوں سے اعلان برات کردیں، بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ قول مجازی ہوگا، یعنی وہ بت اپنی زبان حال سے اعلان برات کر رہے ہوں گے۔