سورة یونس - آیت 20

وَيَقُولُونَ لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّهِ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور یہ لوگ کہتے ہیں کیں ایسا نہ ہوا کہ اس پر (یعنی پیغبر اسلام پر) اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی اترتی؟ تو (اے پیغبر) تم کہہ دو غیب کا علم تو صرف اللہ ہی کے لیے ہے، پس انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٩) مشرکین مکہ نے نبی کریم سے کبر و عناد میں کہا کہ قرٓان اور دیگر معجزات کے بجائے کوئی ایسی نشانی لاؤ جس کا ہم مطالبہ کرتے ہیں، مثال کے طور پر مردہ کو زندہ کرو، یا پہاڑ کو سونا بنا دو، یا آسمان سے تمہارے لیے کوئی مزین و مزخرف گھر اتار دیا جائے، تاکہ ہم تمہاری نبوت کی تصدیق کرسکیں، تو اللہ تعالیٰ نبی کریم سے کہا کہ آپ ان کے جواب میں کہیں کہ کسی نشانی کا نازل ہونا غیبی بات ہے، جس کا علم صرف اللہ کو ہے، مجھے یا تمہیں یا کسی اور مخلوق کو اس کا علم نہیں ہے، تو میں تمہاری مرضی کے مطابق کیسے کوئی نشانی لاسکتا ہو؟ البتہ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرتا ہوں کہ اللہ کس کے حق میں فیصلہ کرتا۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ ان کا یہ سوال صرف کبر و عناد کی بنیاد پر تھا، اگر اللہ کے علم میں ہوتا کہ وہ اپنے سوال میں مخلص ہیں تو ان کی خواہش کے مطابق نشانی ضرور بھیج دیتا۔