سورة یونس - آیت 7

إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جو لوگ (مرنے کے بعد) ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، صرف دنیا کی زدنگی ہی میں مگن ہیں اور اس حالت پر مطمئن ہوگئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٠) ذکر یوم آخرت کے بعد اس کے منکرین اور پھر اس پر یقین رکھنے والوں کے حالات بیان کیے جارہے ہیں، جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ہیں اور دنیا کی زندگی پر ہی شاداں و فرحاں ہیں، اور اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر نہیں کرتے، ان کا ٹھکانا اللہ نے جہنم بتایا ہے، اور جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کرتے ہیں، اللہ انہیں ان کے ایمان کی بدولت جنتوں تک پہنچا دے گا، جن میں ان کے قدموں تلے نہریں جاری ہوں گی۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اہل جنت کی دعا اللہ کی تسبیح و تقدیس ہوگی، اس لیے کہ جب وہاں انہیں ہر قسم کی نعمتیں مل جائیں گی اور امروز فردا کے اندوہ و غم سے یکسر آزاد ہوجائیں گے، تو اللہ تعالیٰ کے شکر کے طور پر اللہ کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہیں گے، اور ایک دوسرے کو سلام کرتے پھریں گے، اور اپنی دعا کے اختتام پر الحمدللہ رب العالمین کہا کریں گے، کہ دنیاو آخرت میں اور ہر حال میں اور ہر وقت وہی ذات واحد ہر قسم کی تعریف اور ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے۔