سورة التوبہ - آیت 98

وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغْرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ ۚ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اعرابیوں ہی میں ایسے لوگ ہیں کہ جو کچھ (راہ حق میں) خرچ کرتے ہیں اسے (اپنے اوپر) جرمانہ سمجھتے ہیں اور منتظر ہیں کہ تم پر کوئی گردش آجائے (تو الٹ پڑیں) حقیقت یہ ہے کہ بری گردش کے دن خود انہی پر آنے والے ہیں اور اللہ (سب کچھ) سننے والا (سب کچھ) جاننے والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٧٤) ان بادشیہ نشین منافقین کا حال یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں صرف ریاکاری کے لیے کرتے ہیں، اس لیے اسے جرمانہ ہی سمجھتے ہیں اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب حالات بدلیں اور مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے تاکہ ان سے نجات ملے اور اپنا مال انہیں نہ دینا پڑے، اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ مصیبت انہی پر آئے گی اور حالات انہی کے حق میں بد سے بدتر ہوتے جائیں گے۔