سورة التوبہ - آیت 65

وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اگر تم ان لوگوں سے پوچھو (ایسی باتیں کیوں کرتے ہو؟) تو یہ ضرور جواب میں کہیں ہم نے تو یونہی جی بہلانے کو ایک بات چھیڑ دی تھی اور ہنسی مذاق کرتے تھے تم (ان سے) کہو کیا تم اللہ کے ساتھ اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہو؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

50۔ ابو نعیم نے حلیہ میں شریح بن عبید سے اور ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ وغیرہم نے عبداللہ بن عمر (رض) سے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں جو روایت نقل کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک آدمی (اور وہ غالبا عبداللہ بن ابی بن سلول تھا) نے غزوہ تبوک کے موقع سے ایک مجلس میں کہا کہ ہم نے ان قراء سے زیادہ جھوٹا اور بزدل نہیں دیکھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوگئی اور قرآن نازل ہوا، تو وہ آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کی مہار پکڑ کر دوڑ رہا تھا اور لوگ اسے پتھر سے مار رہے تھے اور کہتا تھا کہ یا رسول اللہ ! ہم یونہی گپ شپ کر رہے تھے، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے جا رہے تھے کہ کیا تم لوگ اللہ، اس کی آیتوں اور اس کے رسول کا مذاق اڑا رہے تھے۔ آیت 66 میں اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کو مخاطب کر کہا کہ ابھی کوئی عذر قابل قبول نہیں، تمہارا کفر ظاہر ہوچکا۔ البتہ جو لوگ توبہ کرلیں گے اور اپنی اصلاح کرلیں گے تو ہم انہیں معاف کردیں گے، لیکن جو لوگ اپنے نفاق پر اصرار کریں گے، اور اسی طرح قرآن اور اسلام کا مذاق اراتے رہیں گے، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچاتے رہیں گے تو ان جرائم کی پاداش میں ہم انہیں ضرور سزا دیں گے۔