سورة التوبہ - آیت 53

قُلْ أَنفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ ۖ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْمًا فَاسِقِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اور) کہو : تم (بظاہر) خوشی سے (راہ حق میں) خرچ کرو یا ناخوش ہوکر، تمہارا خرچ کبھی قبول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ تم ایک ایسے گروہ ہوگئے جو (احکام الہی سے) نافرمان ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

41۔ منافقین چاہے اپنی خوشی سے خرچ کریں، یا قتل کے خوف سے اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں کرے گا، اس لیے کہ وہ اللہ کے نافرمان بندے ہیں، اس سبب کی مزید توضیح آیت 54 میں کردی گئی کہ اللہ کی راہ میں ان کا خرچ اس لیے قابل قبول نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں، نماز کو بہت بڑا بوجھ سمجھتے ہیں، اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو جرمانہ سمجھتے ہیں۔ نسائی نے ابو امامہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے، اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو اللہ کے لیے خالص ہو اور اسی کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہو، اور سورۃ مائدہ میں اللہ نے فرمایا ہے انما یتقبل اللہ من المتقین، کہ اللہ صرف تقوی والوں کا عمل قبول کرتا ہے۔