سورة التوبہ - آیت 50

إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ ۖ وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُوا قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَنَا مِن قَبْلُ وَيَتَوَلَّوا وَّهُمْ فَرِحُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر) اگر تمہیں کوئی اچھی بات پیش آجائے تو وہ انہیں (یعنی منافقوں کو) بری لگے اور اگر کوئی مصیبت پیش آجائے تو کہنے لگیں : اسی خیال سے ہم نے پہلے ہی اپنے لیے مصلحت بینی کرلی تھی، اور پھر گردن موڑ کے خوش خوش چل دیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(39) منافقین کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں سے عداوت کیئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی، مسلمانوں کی ہر خوشی سے انہیں تکلیف ہوتی تھی، اور ان کی ہر تکلیف پر خوش ہوتے تھے، اور کہتے تھے کہ ہم نے تو پہلے سے ہی احتیاط کرلیا تھا اور جنگ کے لیے نہیں نکلے تھے، اسی لی تو آج اوروں کی طرح قتل نہیں کیے گئے ہیں اور انہوں نے ہماری بات نہیں مانی تو یہ دن دیکھنا پڑا۔