سورة التوبہ - آیت 25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(مسلمانو) یہ واقعہ ہے کہ اللہ بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد کرچکا ہے (جبکہ تمہیں اپنی قلت و کمزوری سے کامیابی کی امید نہ تھی) اور جنگ حنین کے موقع پر بھی جبکہ تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے (اور سمجھے تھے کہ محض اپنی کثرت سے میدان مار لوگے) تو دیکھو وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی ساری وسعت پر بھی تمہارے لیے تنگ ہوگئی، بالآخر ایسا ہوا کہ تم میدان کو پیٹھ دکھا کر بھاگنے لگے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(20) مندرجہ ذیل تین آیتوں میں غزوہ حنین کا ذکر ہے جس اجمالی ذکر اس سورت کی ابتدا میں چکا ہے یہ جنگ شوال 8 ھ میں وادی حنین میں ( جو کہ اور طائف کے درمیان وقع ہے (قبیلہ ہوازن اور اس علاقہ کے کچھ دوسرے مشر کین کے ساتھ لڑی گئی تھی، مشر کین عرب کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پہلی جنگ بدر تھی، اور آخری جنگ حنین اور دونوں ہی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر مشرکین کی طرف پھینکا تھا، غزوہ بدر میں مشر کین عرب کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب بیٹھا دیا اور ان کے مزاج کی تیزی میں کمی پیدا کردی اور غزوہ حنین نے ان کی کمر توڑ دی مشرکین کے ترکش کا آخری تیر بھی چل چکا، اور اللہ نے مشرکین کو ذلیل کیا اور اس کے بعد تمام قبائل عرب جوق درجوق اسلام میں داخل ہونے لگے کیوں کہ ان کے لیے اب اس کے علا ہو کوئی چارہ نہیں رہا اسلام کا علم بلند ہوچکا تھا اور کفر وشرک ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہوچکا تھا، غزوہ بدر اور غزوہ حنین اور ہر سریہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح و کامرانی دی اور اسلام معزز ہوتا چلا گیا یہ تما کامیابیاں اور یہ عزت وغلبہ جو مسلمانوں کو حاصل ہو وہ محض اللہ تعالیٰ تائید ومدد سے حاصل ہوا ان کامیابیوں میں انسانی قوت اور مادی وسائل حالات کے مطابق کبھی کم کبھی زیادہ استعمال ہوئے لیکن فتح ونصرت کا تعلق ان وسائل سے نہیں بلکہ محض توفیق باری تعالیٰ سے تھا۔ بسا اوقات مسلمان انسان ہونے کے ناطے شیطان کے دھوکہ میں آجاتا ہے صحابہ کرام انسان تھے ان میں سے بعض حضرات کے ذہنوں میں کبھی کبھار یہ بات آجاتی رہی ہوگی کہ یہ فتح وکامرانی ہمنے اپنے زور بازو سے حاص کیا ہے جو مسلمانوں کے دین و ایمان کے لیے بہرحال زہر ہلاہل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی اور تمام مسلمانوں کی ذہنی تربیت کے لیے یہ بات غزوہ حنین کے ذکر کے موقع سے ان کے ذہن نشیین کرما چاہا کہ وہ اللہ کی ذات تھی جس نے غزوہ حنین ( جب مسلمانوں کو اپنی کثرت تعداد پر غرور تھا) اور دیگر تمام مواقع پر تمہاری مدد کی تمام کا میابیاں اسی ذات واحد کی نصرت وتائید سے حاصل ہوتی رہی ہیں تمہاری تعداد تمہاری جنگی تیاریوں کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب رمضان 8 ھ میں مکہ فتح کرلیا تو انہیں معلوم ہوا کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ آپس سے جنگ کرنے کے لیے جمع ہو رہے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شوال 8 ھ میں بارہ ہزار کی فوج لے کر ( جس میں دس ہزار مدینہ سے آئے ہوئے مجاہدین تھے اور دہ ہزار فتح مکہ کے بعد اسلام لانے والوں میں سے تھے) ان سے نمٹنے کے لیے روانہ ہوگئے بعض مسلمانوں کو اس موقع پر اپنی کثرت تعداد غرور ہوگیا جب دونوں فوجیں جمع ہوئیں تو ہوازن نے اپنی کمین گاہوں سے نکل کر یک بارگی ایسا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور بھاگ کھڑے ہوئے صرف سو (100) کے قریب مجاہدین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارد گرد رہ گئے اور مشر کین سے جنگ کرتے رہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا خچر (دلدل) مشرکین کی طرف بڑھاتے اور کہتے کہ میں نبی ہوں یہ کوئی جھوٹی بات نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اور عباس بن عبدالمطلب ( جن کی آواز بہت اونچی تھی) کو حکم دیا کہ وہ انصار کو اور باقی مسلمانوں کا آوازدیں جب انہوں نے آواز سنی تو یکبارگی پکٹے اور مشر کین پر ایسے جھپتے کہ وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور مسلمانوں ان کی عورتوں بچوں اور مال ودولت سب کچھ پر قبضہ کرلیا تقریبا چھ ہزار آدمی پابند سلاسل ہوئے جنہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعد میں آزاد کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں اکثروبیشتر لوگ مسلمان ہوگئے، غزوہ حنین کے انہی واقعات واحوال کو ان آیتوں میں بیان کیا گیا ہے، وباللہ التوفیق۔ میں غزوہ بدر، قریظہ، بنونضیر، حدیبہ، خیبر، فتح مکہ اور دیگر غزوات اور فوجی دستوں کی طرف اشارہ ہے جن کی تعداد صحیحین کی زید بن ارقم سے مروی ایک حدیث میں انیس بتائی گئی ہے۔