سورة التوبہ - آیت 19

أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

کیا تم لوگوں نے یوں ٹھہرا رکھا ہے کہ حاجیوں کے لیے سبیل لگا دینی اور مسجد حرام کو آباد رکھنا اسی درجہ کا کام ہے جیسا اس شخص کا کام جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں اور اللہ (کا قانون ہے کہ وہ) ظلم کرنے والوں پر (کامیابی کی) راہ نہیں کھولتا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

( 16) ابن ابی حاتم اور حافظ ابن مردیہ نء ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ مشرکین مکہ نے بیت اللہ کو آباد کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا ان لوگوں کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور جہاد کیا اور انہیں اس بات پر فخر تھا اور بڑے کبر میں حاجیوں کو پانی پلانا ان لوگو کو اعمال سے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور جہاد کیا اور انہیں اس بات پر فخر تھا اور بڑے کبر میں مبتلا تھے کہ وہ اہل حرم ہیں اور سے آباد کرتے ہیں تو اللہ نے اس آیت کے ذریعہ اللہ پر ایمان پر ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ساتھ جہادفی سبیل اللہ کو مشرکین کے ان اعمال پر ترجیح دی جن کا ذکر اوپر آیا ہے اور صراحت کردی کہ حرم کی دیکھ بھال اور حاجیوں کو پانی پالا نا شرک ہوتے ہوئے بے کار ہیں اور قیامت کے دن کے لیے نفع بخش نہیں ہوں گے ، امام مسلم نے نعمان بن بشیر سے روایت کی ہے کہ میں منبر رسول کے پاس بیٹھا تھا تو ایک آدمی نے کہا کہ اسلام لانے کے بعد یہی کافی ہے کہ مسجد حرام کو آباد کروں دوسرے نے کہا جہاد فرسبیل الہ اس سے بہتر ہے جو تم نے کہا ہے توعمر نے انہیں ڈانٹا اور کہا ہے کہ تم لوگ منبر رسول کے پاس جمعہ کے دن اپنی آوازیں بلند نہ کرو میں جمعہ کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں پوچھو گا تو اللہ نے یہ آیت ناازل کی اور بتایا کہ ایمان بااللہ اور جہاد فی سبیل اللہ حاجییوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال سے کئی گنازیادہ افضل ہے اس لیے کہ ایمان دین کی اصل اور بنیاد ہے بغیر اس کے اعمال قبول نہیں ہوتے اور جہاد فی سبیل اللہ دین کا سب سے اونچا عمل ہے اللہ تعا کے ذریعہ دین اسلام کی حفاظت کرتا ہے اور باطل کو سرنگوں کرتا ہے۔