سورة البقرة - آیت 115

وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور دیکھو، پورب ہو یا پچھم ساری دنیا اللہ ہی کے لیے ہے (اس کی عبادت کسی ایک رخ اور مقام ہی پر موقوف نہیں) جہاں کہیں بھی تم اللہ کی طرف رخ کرلو اللہ تمہارے سامنے ہے۔ بلاشبہ اس کی قدرت کی سمائی بڑی ہی سمائی ہے، اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

128: ابتدائے اسلام میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خانہ کعبہ کے سامنے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ ہجرت کے بعد خانہ کعبہ کی دید سے بھی محروم ہوگئے۔ مدینہ منورہ میں سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، اور دل میں یہ خواہش رہی کہ کاش، مسجد حرام، مسلمانوں کا قبلہ بن جاتا، اسی زمانے میں اللہ نے اپنے رسول اور صحابہ کرام کو تسلی دینے کے لیے یہ آیت اتاری کہ مشرق و مغرب اور تمام جہات کا مالک صرف اللہ ہے۔ اس لیے آپ جس طرف بھی رخ کر کے نماز پڑھیں گے، اس طرف اللہ کو پائیں گے۔ اس کے بعد یہ حکم خاص تو منسوخ ہوگیا، اور خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ااگیا، لیکن اس آیت کا حکم عام باقی رہا کہ جہت قبلہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں، اور نفل نمازوں میں، نیز خوف اور سفر کی حالت میں کسی طرف بھی رخ کیا جائے تو نماز صحیح ہوگی۔ 129: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے (وجہ) یعنی چہرہ ثابت کیا ہے، اس لیے صحیح عقیدہ والے اللہ کے لیے وجہ ثابت کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ کی ذات کے لائق ہے، ایسا چہرہ جو دوسرے چہروں کے مشابہ نہیں۔ نیز آیت میں اللہ نے اپنے لیے واسع اور علیم دو صفت ثابت کی ہے۔ اس لیے ہم بھی ثابت کرتے ہیں، اسی تفصیل کے ساتھ جیسا کہ وجہ کے بارے میں کہا گیا ہے۔