سورة الانفال - آیت 60

وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (مسلمانو) جہاں تک تمہارے بس میں ہے قوت پیدا کر کے اور گھوڑے تیار رکھ کر دشمنوں کے مقابلہ کے لیے اپنا سازو سامان مہیا کیے رہو کہ اس طرح مستعد رہ کر تم اللہ کے (کلمہ حق کے) اور اپنے دشمنوں پر اپنی دھاک بٹھائے رکھو گے۔ نیز ان لوگوں کے سوا اوروں پر بھی جن کی تمہیں خبر نہیں۔ اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور (یاد رکھو) اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد کی تیاری میں) تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا مل جائے گا۔ ایسا نہ ہوگا کہ تمہاری حق تلفی ہو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(50) کفار قریش معرکہ بدر میں شکست فاش کے بعد جب مکہ پہنچے تو ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف آگ لگی ہوئی تھی وہاں پہنچتے ہی انہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہو سلم سے دوبارہ جنگ کرنے کی تیاری شروع کردی تاکہ مسلمانوں سے اپنے مقتولین کا انتقام لے سکیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے موقع کی مناسبت سے مسلمانوں کو تنبیہ کی کہ دشمنوں سے منٹنے کے لے مسلمانوں کو ہر حال اور ہر زمانہ میں بھر پور جنگی تیاری کرنی چاہیئے اس میں ایک قسم کا لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جنگ بدر میں مسلمانوں نے کوئی جنگی تیاری نہیں کی تھی وہ تو اللہ کا خاص انعام ؛ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم کی دعاؤں کے نتیجہ میں اور دین اسلام کو دنیا میں باقی رکھنے کے لیے مسلمانوں کو فتح دی لیکن ایسا ہر وقت ہر حال میں نہیں ہوسکتا فتح ونصرت حاصل کرنے کے لیے اللہ کی تائید بعد اہم چیز زمانے کے تقاضے کے مطابق فوجی طاقت اسلحہ ٹینکوں اور جدید اسباب جنگ کی فراہمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو صریح طور پر حکم دیا ہے کہ وہ دشمنان دین کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری جنگی تیاری کریں اور اس بارے میں کبھی بھی غافل نہ ہوں اور اس کی عظیم حکمت یہ بتائی ہے جب دشمنان اسلام کو معلوم ہوگا کہ مسلمان پوری طرح تیار ہیں اور اگر جنگ کی نوبت آگئی تو وہ ہمارا صفایا کردیں گے تو ان پر رعب طاری رہے گا اور مسلمانوں پر دست درازی سے باز رہیں گے اور چونکہ جنگی تیاری اور جدید ترین اسلحہ کی صنعت بغیر کثیر کے وجود میں نہیں آسکتی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس راہ کے اخراجات کو انفاق فیی سبیل اللہ سے تعبیر کیا اور بتایا کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے پورا بدلہ دے گا۔ امام مسلم، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر یہ آیت پرہی اور فرمایا : اصل طاقت تیراندازی ہے اصل طاقت تیر انداسی ہے امام احمد اور اصحاب سنن نے عقبہ بن عامر (رض) سے ہی ایک اور حدیث روایت کی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تیر چلاؤ اور سواری کرو اور تیر چلانا گھوڑے پر سوار ہونے سے بہتر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حدیث میں پھینکنے کا لفظ استعمال کیا ہے جو اس زمانے کے ہر اس ہتھیار پر صادق آئے گا جسے دشمن کی طرف سیکڑوں میل کی مسافت سے پھینکا جارہا ہے اور دشمن کی صفوں اور ان کے شہروں میں تباہی لائی جا رہی ہے اس لیے مسلما نوں کو اس آیت کریمہ اور مذکورہ بالا احادیث کے پیش نظر جنگی تیاری پر پورا دھیان دینا چاہئے۔ آج مسلمان ذلت ومغلوبیت کا شکار ہیں تو اس کاسبب جہاں ایمان وعمل کی کمی ہے وہا‏ یہ سبب بھی ہے کہ وہ اسلحہ سازی اور جنگی تیاریوں میں دنیا کی دوسری قوموں کے مقابلہ میں بہت ہی پیچھے جا چکے ہیں ہر مسلمان ملک ہتھیاروں کے لیے کاسئہ گدائی لے کر دوسری قوموں کے پیچھے دوڑ رہا ہے اور وہ قومیں انہیں صرف دفاعی ہتھیار دینے پر راضی ہوتی ہیں اس لیے کہ الکفرہ ملتہ واحدہ کے مطابق وہ کبھی بھی نہیں چاہتیں کہ مسلمان اس پوزیشن میں آجائیں کہ وہ اللہ اور رسول کے ان شمنوں پر حملہ کرسکیں جنہوں نے بہت سے ممالک میں مسلانوں عرصئہ حیات تنگ کر رکھا ہے آیت میں سے مراد منافقین ہیں جو مدینہ میں پائے جاتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبہ آیت (101) میں فرمایا ہے کہ اہل مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو نفاق کی انتہا کو پینچے ہوئے ہیں انہیں آپ نہیں جانتے ہم جانتے ہیں