سورة الانفال - آیت 58

وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اگر ایک گروہ (ابھی میدان جنگ میں تو دشمنوں کے ساتھ نکلا ہے لیکن اس) سے تمہیں دغا کا اندیشہ ہے تو چاہیے ان کا عہد انہی پر الٹا دو۔ (یعنی عہد فسخ کردو) اس طرح کہ دونوں جانب یکساں حالت میں ہوجائیں (یعنی ایسا نہ کیا جائے کہ اچانک شکست عہد کی انہیں خبر دی جائے بلکہ پہلے سے جتا دینا چاہیے، تاکہ دونوں فریقوں کو یکساں طور پر تیاری کی مہلت مل جائے) یاد رکھو اللہ خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(48) بنو قریظہ کی بد عہدی اور خیانت کا جب ذکر آیا تو موقع کی منا سبت سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک بہت ہی اہم جنگی اصول بتایا وہ یہ کہ اکر کسی نے مسلمانوں کے ساتھ جنگ بندی اور صلح کا معاہدہ کہا ہو، لیکن کچھ علامتیں ایسی ظاہار ہو رہی ہوں جن سے مسلمانوں کو پتہ چل جائے کہ یہ لوگ ایک نہ ایک دن خیانت کر ہی بیٹھیں گے تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ ان سے کہہ دیں کہ اب ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی عہد باقی نہیں رہا لیکن ان سے جنگ کرنے میں پہل نہ کریں، تاکہ کفار مسلما نوں کو خیانت اور بدعہدی کا ساتھ متہم نہ کرسکیں اس لیے کہ بد عہدی بہت ہی مذموم صفت ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ یہ تو اس صورت میں ہے کہ کافروں کی خیانت کھل کر سامنے نہ آئی ہو، اگر ان کی بدعہدی ظاہر ہوگئی ہو تو پھر مسلمانوں کی طرف سے نقض عہد کے اعلان کی کوئی ضروت باقی نہیں رہتی جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مکہ کے ساتھ کیا کہ جب انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیف قبیلہ خزاعہ والوں کو قتل کر کے اپنی بد عہدی کا اعلان کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کی فوج لے کر ان کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوگئے اور کفار قریش کو ان کی آمد کا پتہ چلا جب وہ ( مراظہران) پہنچ گئے جو مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے۔