سورة الانفال - آیت 57

فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِم مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

تو (اب چاہے جیسی حالت میں انہیں پاؤ اسی کے مطابق سلوک بھی کرو) اگر تم لڑائی میں انہیں موجود پاؤ تو ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں (یعنی مشرکین مکہ) انہیں بھاگتے دیکھ کر خود بھی بھاگ کھڑے ہوں (اور) ہوسکتا ہے کہ عبرت پکڑیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(47) انہی یہو دی بنو قریظہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ اگر یہ لوگ جنگ میں پکڑ لیے جائیں تو انہیں کاری ضرب لگا یئے اور ایسی سزا دیجئے کہ جو دوسرے دشمنان اسلام گھات لگائے بیٹھے ہیں وہ ڈر کے مارے تتر بتر ہوجائیں اور یہ یہود ان کے لیے نشان عبرت بن جا ئیں