سورة البقرة - آیت 114

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور غور کرو اس سے بڑھ کر ظلم کرنے والا انسان کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی عبادت گاہوں میں اس کے نام کی یاد کو روکے اور ان کی ویرانی میں خوش ہو؟ جن لوگوں کے ظلم کا یہ حال ہے یقینا وہ اس لائق نہیں کہ خدا کی عبادت گاہوں میں قدم رکھیں۔ بجز اس حالت کے کہ (دوسروں کو اپنی طاقت سے ڈرانے کی جگہ خود دوسروں کی طاقت سے) ڈرے سہمے ہوئے ہوں۔ یاد رکھو، ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی سخت عذاب ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

126: اس سے کون لوگ مراد ہیں، مفسرین کے دو قول ہیں۔ عوفی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ وہ نصٓری تھے، جنہوں نے یہود کو بیت المقدس میں نماز پڑھنے سے روکا تھا اور بخت نصر بابلی مجوسی کی مدد کی تھی، جس نے بیت المقدس کو تاراج کیا تھا، ابن جریر نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے دوسر قول یہ ہے کہ مراد مشرکین مکہ ہیں، جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صلح حدیبیہ کے موقع سے مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا، ابن ابی حاتم نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسجد حرام میں کعبہ کے پاس نماز پڑھنے سمنع کردیا تو یہ آیت اتری۔ حافظ ابن کثیر نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے، کیونکہ نصاری نے جب یہود کو بیت المقدس میں نماز پڑھنے سے منع کیا تو وہ دینی اعتبار سے یہود سے بہتر تھے، یہود پر تو اللہ نے لعنت بھیج دی تھی، ان کی عبادت ہی مقبول نہیں تھی اور کلام کا سیاق و سباق بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے کہ یہود و نصاری کی مذمت بیان کرنے کے بعد اب مشرکین کی مذمت بیان کی جا رہی ہے، اور مسجد کی بربادی کی کوشش اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ انہوں نے وہاں سے اللہ کے رسول کو نکال دیا، اور خانہ کعبہ کے پاس بت پرستی کا بازار گرم کیا۔ 127: اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے کہ مسلمانوں کو مسجد حرام پر غلبہ نصیب ہوگا، اور مشرکین ذلیل ہوں گے، اور مسجد حرام میں ڈرتے ہوئے داخل ہوں گے کہ کہیں انہیں پکڑ نہ لیا جائے یا قتل نہ کردیا جائے۔ چنانچہ اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کیا، کہ مکہ فتح ہوا اور مشرکین کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا گیا (لھم فی الدنیا خزی) میں اسی ذلت کی طرف اشارہ ہے اور آخرت میں عذاب نار کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے کہ انہوں نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا، اس میں بتوں کو لا کر نصب کیا، غیر اللہ کو پکارا اور ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ فائدہ : علمائے کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفار کو مساجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد کی تعمیر اور انہیں ظاہری اور معنوی طور پر آباد کرنے سے بڑھ کر ایمان والی کوئی بات نہیں۔ جیسا کہ اللہ نے دوسری جگہ فرمایا ہے آیت انما یعمر مساجد اللہ من آمن باللہ والیوم الاخر، کہ مسجدوں کو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ توبہ : 18۔