سورة البقرة - آیت 106

مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ہم اپنے احکام میں سے جو کچھ بدل دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس کی جگہ اس سے بہتر یا اس جیسا حکم نازل کردیتے ہیں (پس اگر اب ایک نئی شریعت ظہور میں آئی ہے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پو لوگوں کو حیرانی ہو) کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کی قدرت سے کوئی بات باہر نہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٦٠: عربی زبان میں کلمہ نسخ، نسخ الکتاب، سے ماخوذ ہے، جس کا معنی کس کتاب کا دوسرا نسخہ تیار کرنا ہوتا ہے، نسخ، ابطال اور ازالہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، قرآن کریم کی اصطلاح میں ایک حکم کے بدلے دوسرا حکم لانا، یا اسے ساقط کردینامراد ہوتا ہے، اور شریعت اسلامیہ میں نسخ صرف تحریم و تحلیل اور منع و اباحت میں ہوا ہے، اخبار وغیرہ میں نسخ نہیں ہوا۔ جمہور علمائے اسلام کی رائے ہے کہ قرٓان و حدیث میں نسخ واقع ہوا ہے، جیسے اللہ کا یہ قول الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ، کہ بوڑھا اور بوڑھی اگر زنا کریں تو ان دونوں کو ضرور پتھر مار مار کر ہلاک کردو۔ اور یہ قول، لوکان لابن آدم وادیان من ذھب لابتغی لھما ثالثا۔ کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوتیں، تو وہ تیسری وادی کی خواہش کرتا، ابو مسلم اصفہانی معتزلی جیسے بعض باطل عقیدہ رکھنے والوں نے نسخ کا انکار کیا ہے جن کا اسلام میں کوئی اعتبار نہیں۔ یہودیوں نے قرآن کے ذریعہ احکام تورات کے نسخ کا انکار کیا، اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نوبت انکار اس لیے کیا کہ ان دونوں رسولوں نے تورات کے بعض احکام کو بذریعہ وحی الٰہی منسوخ قرار دیا۔ قرآن کریم نے تورات کے بعض احکام کو منسوخ قرار دیا، اور بعض کو باقی رکھا، ایسا بھی ہوا کہ اللہ تعالیٰ میں ایک حکم نازل فرمایا، اور کچھ دنوں کے بعد اسے منسوخ کردیا، یا اس کے بدلے میں دوسرا کوئی حکم اتار دیا، یہودیوں نے کہا کہ محمد اپنے ساتھیوں کو آج ایک حکم دیتا ہے، اور کل اس سے روک دیتا ہے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم دیتا ہے، اس لیے وہ نبی نہیں ہوسکتا، اور نہ یہ قرآن کلام الٰہی ہوسکتا ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت میں یہودیوں کے اسی قول کی تردید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی آیت کو منسوخ کردیتا ہے تو اس کی جگہ اس سے بہتر یا اسی جیسا حکم لاتا ہے، اور یہ اس لیے نہیں کہ اللہ ابتدا میں ہی دوسرا حکم لانے سے عاجز تھا بلکہ بندوں کی مصلحت اسی میں تھی، اور جو اللہ کی قدرت کا کچھ علم رکھے گا وہ ایسی بات کبھی نہیں کرے گا۔ دوسری آیت میں اسی کی مزید تاکید آئی ہے کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے، ساری مخلوق اس کے زیر اطاعت ہے، انہیں اللہ کے اوامر و نواہی کو بہرحال بجا لانا ہے۔ اللہ انہیں جو چاہے گا حکم دے گا، اور جس کام سے چاہے گا روکے گا، اور حو حکم چاہے گا منسوخ کرے گا اور جو چاہے گا باقی رکھے گا۔ حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نسخ کا انکار صرف کفر و عناد کی وجہ سے کیا، ورنہ یہ چیز عقلی طور پر ممنوع نہیں، اس لیے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا، اور گذشتہ آسمانی کتابوں میں نسخ واقع ہوا ہے، آدم (علیہ السلام) کے لیے اپنے بیٹے بیٹی کی آپس میں شادی حلال تھی، پھر حرام کردی گئی، نوح (علیہ السلام) جب سفینہ (کشتی) سے بارہ آئے تو تمام حیوانات کا کھانا جائز تھا، اس کے بعد بعض کی حلت منسوخ ہوگئی، یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں کے لیے بیک وقت دو بہنوں سے شادی جائز تھی، اس کے بعد تورات میں اسے حرام کردیا گیا۔