سورة الاعراف - آیت 130

وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے فرعون کی قوم کو خشک سالی کے برسوں اور پیداوار کے نقصان میں مبتلا کیا تھا تاکہ وہ متنبہ ہوں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(68) جادوگروں نے شکست کھاجانے ت اور ان کے ایمان لے آنے کے بعد فرعون کے لیے یہ بات آفتاب کی طرف واضح ہوچکی تھی کہ موسیٰ اللہ کے نبی ہیں، اور دنیا وآخرت کی بھلائی اسی میں تھی کہ ان پر ایمان لے آتا، لیکن غرور ونخوت اور جھوٹی معبود دیت کے زعم میں کفر وعناد پر مصر رہا، تو اللہ تعالیٰ نے پہلے اسے اور اس کی قوم کو قحط سالی میں مبتلا کیا کہ اب بھی شاید تو بہ کی توفیق ہوجائے، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خوشحالی اور امن وعافیت کی کڑی آزمائش میں مبتلا کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے استکبار میں آگے ہی بڑھتے گئے، جب قحط سالی آئی تو کہنے لگے کہ یہ سب موسیٰ اور بنی اسرائیل کی وجہ سے ہو رہا ہے اور جب خوشحالی آئی تو کہنے لگے کہ ہم تو اس کے حقدار ہیں ہی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تمام امور کا مدبر اور ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے، اور خوشحالی اور قحط سالی سب اسی کے اختیار میں ہے، موسیٰ اور بنی اسرائیل کے وجود سے بد شگونی لینا تمہارے کفر کا نتیجہ ہے۔ الغرض ان کبر وغرور بڑھتا ہی گیا یہاں تک کہ موسیٰ سے کہا کہ چاہے تم کوئی بھی نشانی لاؤ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے، جب ان کا کفر وعناد اس انتہا کو پہنچ گیا، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا کی اے اللہ ! فرعون کی سر کشی حد سے آگے بڑھ گئی ہے، اور فرعونیوں نے کسی عہد وپیمان کا پاس نہیں رکھا ہے اس لیۓ اب تو انہیں ایسی سزا دے کہ یہ لوگ میری قوم کے لیے اور بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بن جائیں، چناچہ اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی، اور شدید طوفان آیا، اور قریب تھا کہ اس سے ہلاک ہوجاتے کہ وہ لوگ دوڑے ہوئے موسیٰ کے پاس آئے اور ان سے دعا کی درخواست کی تاکہ یہ عذاب ٹل جائے، اور وعدہ کیا کہ اگر عذاب ٹل گیا تو ایمان لے آئیں گے، اور بن اسرائیل کو ان کے ساتھ جانے دیں گے لیکن عذاب ٹل گیا اور مودی (علیہ السلام) نے ان کا وعدہ یاد لایا، تو انکار کر گئے اور اپنے کفر پر مصر رہے، تو اللہ تعالیٰ نے ٹڈی کو فوج بھیجی جس نے ان کی کھیتوں درختوں اور پھلوں کو تباہ کرنا شروع کردیا، جب یہ حال دیکھا تو پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس دوڑے آئے اور پہلے کی طرح ایمان لانے کا وعدہ کیا، لیکن عذاب ٹل جانے کے بعد پھر انکار کر گئے، اسی طرح اللہ نے مسلسل جوؤں، مینڈکوں اور خون کے عذاب میں مبتلا کیا، اور ہر بار تو بہ کا وعدہ کرتے رہے اور عذاب ٹل جانے کے بعد ایمان لانے سے انکار کرتے رہے، اور ان کا یہ وطیرہ اس لیے رہا کہ وہ لوگ واقعی اہل جرائم فساد تھے، اور ہر خیر سے محروم تھے۔ ایت (133) میں طوفان سے مراد شدید موسلادھار بارش تھی جس نے کھیتوں اور پھلوں کو تباہ کردیا اور انسانوں میں اموت ہونے لگیں"جراد"سے مراد مشہور ٹڈی ہے جس نے ان کی کھیتوں کو تباہ کرنا شروع کردیا، اسلام میں اس کا کھان جائز ہے، لیکن رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے نہیں کھاتے تھے، جس طرح "ضب : سانڈا نہیں کھاتے تھے"قمل" سے مراد کھن ہے جو گیہوں اور ان کے دوسرے دانوں وغیرہ میں لگ گیا تھا، بعض لوگوں اس کے دوسرے معانی بھی بیان کئے ہیں، "ضفدع"مینڈک کو کہتے ہیں، ان کے گھروں میں، کھانوں، میں غلوں میں اور بستروں میں ہر جگہ مینڈک ہی مینڈک نظر آنے لگے، اور "دم "سے مراد یہ ہے کہ ان کی نہروں اور کنوؤں کا پانی خون میں بد گیا، مچھلیا مر گئیں اور نہروں کا پانی بدبودار ہوگیا، بعض لوگوں نے اس سے نکسیر کی بیماری مراد لی ہے۔ آیات (134/135) میں "رجز" یعنی عذاب سے مراد طاعون کی بیماری ہے کہا جاتا ہے کہ اس بیماری سے ستر ہزار فرعونی ہلاک ہوگئے تھے۔