سورة البقرة - آیت 99

وَلَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفَاسِقُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے پیغمبر ! یقین کرو ہم نے تم پر سچائی کی روشن دلیلیں نازل کی ہیں، اور ان سے کوئی انکار نہیں کرسکتا مگر صرف وہی جو راست بازی کے دائرہ سے باہر ہوگیا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٥٢: آیات بینات، سے مراد قرآن کریم کی وہ آیتیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے مخفی علوم و اسرار، بنی اسرائیل کے آباء واجداد کی خبریں، اور تورات اور ان کی دیگر کتب سماویہ کی وہ باتیں بیان کی ہیں، جنہیں ان کے علماء کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا، اور جنہیں قدیم و جدید یہودیوں نے بدل ڈالا تھا۔ ان آیات کے سننے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آتے، جنہوں نے کسی آدمی سے کچھ سیکھے بغیر انہیں ان باتوں کی اطلاع دی، لیکن وہ اس نعمت سے محروم رہے۔ آیت میں الفاسقون سے مراد یہود ہیں۔