سورة الاعراف - آیت 50

وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ ۚ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور دوزخیوں نے جنت والوں کو پکارا تھوڑا سا پانی ہم پر بہا دو (کہ گرمی کی شدت سے پھٹکے جاتے ہیں) یا اس میں سے کچھ دے دو جو خدا نے تمہیں بخشا ہے، جنت والوں نے جواب دیا خدا نے یہ دونوں چیزیں (آج) منکروں پر روک دی ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(35) اس سے مقصود اہل جہنم کی انتہائی رسوائی بیان کرنی ہے کہ دنیا میں تو کمزور مسلمان کو ذلیل وحقیر سمجھتے تھے، اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں چھوڑ کر انہیں کیوں کر اپنی رحمت سے نوازے گا، لیکن اب حال یہ ہے کہ اپنی انتہائی نے بسی کے عالم میں بطور رحمت تمہیں عطا کیا ہے، تاکہ ہم آگ کی تپش اور پیاس کی شدت سے نجات پائیں، یا تمہیں جو کھا نے اور پینے کی چیزیں ملی ہیں ان میں سے کچھ دے دو، تو جنتی کہیں گے، کہ اللہ نے ان دونوں ہی چیزوں کو جہنمیوں پر حرام کردیا ہے، جنہوں نے اللہ کے دین کو کھیل اور مذاق بنا لیا تھا، اور دنیا اور اس کی زینتوں پھنس کر آخرت سے غافل ہوگئے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ کہیں گے کہ آج ہم بھی ان کے ساتھ آدمی جیسا معا ملہ کریں گے جو انہیں بھول گیا ہو انہیں ہمیشہ کے لیے جہنم میں چھوڑ دیں گے جس طرح انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا، اور جس طرح وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔ ترمذی نے ابو سعید اور ابو ہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا تو اللہ اس سے پوچھے کا کہ کیا میں نے تمہیں کان، آنکھ، مال اور اولاد نہیں دی تھی، کیا تمہارے لیے چوپایوں اور کھیتوں کو مسخر نہیں کردیا تھا۔ اور کیا میں نے تمہیں ریاست اور چودھر راہٹ نہیں دی تھی، کیا تم سمجھتے نہیں تھے کہ آج کا دن دیکھوں گے ؟ تو کہے گا نہیں تو اللہ کہے گا، میں نے تمہیں آج اسی طرح فرموش کردیا ہے، جس طرح تم نے مجھ فروموش کردیا تھا۔