سورة الاعراف - آیت 13

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

فرمایا جنت سے نکل جا، تیری یہ ہستی نہیں کہ یہاں رہ کر سرکشی کرے، یہاں سے نکل دور ہو، یقینا تو ان میں سے ہوا جو ذلیل و خوار ہیں۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٢] حقیقتاً ابلیس کے تین قصور تھے ایک اللہ کے حکم کو نہ مانا، دوسرے فرشتوں کی جس جماعت میں وہ رہتا تھا سجدہ کرتے وقت وہ اس جماعت سے الگ ہوا تیسرے اس نافرمانی پر نادم ہونے کی بجائے تکبر کیا، خود کو بڑا سمجھا اور سیدنا آدم (علیہ السلام) کو حقیر سمجھا لہذا اس پر اللہ کی لعنت و پھٹکار ہوئی اور ذلیل و خوار ہوا اور یہ لعنت و پھٹکار ہمیشہ کے لیے اس کا مقدر ہوگئی۔