سورة الممتحنة - آیت 9

إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں سے میل ملاپ رکھنے سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے مقابلہ کیا اور تم کو گھروں سے نکالا یا تمہارے دشمنوں کی مدد کی، بے شک جو شخص ایسے لوگوں سے دوستی رکھے گا اس کا شمار (مسلمانوں پر) ظلم کرنے والوں میں ہوگا

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[١٩] معاند قسم کے کافر ہی اسلام، پیغمبر اسلام، اہل اسلام اور اللہ کے دشمن ہیں۔ اور ایسے لوگوں سے دوستی دراصل اسلام اور اہل اسلام سے دشمنی کے مترادف ہے۔ لہٰذا اس قسم کے کافروں کو دوست بنانا یا ان سے راز و نیاز کی باتیں کہنا یا بتانا بڑے ظلم کی بات ہے۔