سورة النسآء - آیت 22

وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا (کسی وقت) نکاح کرچکے ہوں، تم انہیں نکاح میں نہ لاؤ، البتہ پہلے جو کچھ ہوچکا وہ ہوچکا۔ (١٨) یہ بڑی بے حیائی ہے، گھناؤنا عمل ہے، اور بے راہ روی کی بات ہے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٣٦] سوتیلی ماؤں سے نکاح :۔ یعنی تمہاری سوتیلی مائیں بھی ماؤں ہی کے مقام پر ہیں لہٰذا انہیں ورثہ کا مال سمجھنا اور زبردستی ان سے نکاح کرنا، ان کے ترکہ کے وارث بن بیٹھنا، یہ سب باتیں انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہیں۔ البتہ جو نکاح اس حکم کے آنے سے پہلے تک تم کرچکے ہو وہ کالعدم قرار نہیں دیئے جائیں گے، نہ ان سے پیدا شدہ اولاد حرامی تصور ہوگی۔ وراثت کے احکام بھی ان پر لاگو ہوں گے لیکن اس حکم کے بعد تم پر سوتیلی ماؤں سے نکاح کرنا حرام ہے۔