سورة آل عمران - آیت 164

لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک صاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٥٨۔ ا] من کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے (١) احسان کرنا، (٢) احسان جتلانا، (٣) کاٹنا اور کٹنا اور جب یہ لفظ احسان کرنے کے معنی میں آئے تو اس سے مراد کوئی بہت بڑا احسان ہوتا ہے۔ اور وہ بہت بڑا احسان وحی الٰہی اور اس کی روشنی ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے اللہ تعالیٰ نے انسان کو آنکھیں اور بصارت عطا فرمائی ہے۔ لیکن جب تک کوئی خارجی روشنی نہ ہو۔ مثلاً سورج، چاند، ستاروں یا چراغ اور قمقموں کی روشنی نہ ہو، آنکھ کی بصارت کام نہیں دیتی۔ وہ اندھیرے میں بھی کام تو کرتی ہے مگر بہت کم اور انسان بھٹکتا اور ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ بعینہ اللہ تعالیٰ نے سمجھنے سوچنے کے لیے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے۔ لیکن کائنات اور انسان کی طبعی زندگی اور ما بعد الطبیعات کے بہت سے مسائل ایسے ہیں جہاں اکیلی عقل کام نہیں کرسکتی جب تک اسے کوئی خارجی روشنی نہ ملے۔ اگر اس خارجی روشنی کے بغیر عقل کچھ کام کرے گی بھی تو بھٹکتی اور ٹھوکریں کھاتی پھرے گی اور فلاسفر قسم کے لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے اور عقل کے لیے خارجی روشنی وحی الٰہی ہے۔ وحی الٰہی کی روشنی میں عقل جو کام کرے گی وہ درست اور قابل اعتماد ہوسکتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کا لوگوں کو انبیاء اور وحی کے ذریعہ ہر چیز کی حقیقت اور ماہیت سے خبردار کردینا لوگوں پر بہت بڑا احسان ہے ورنہ محض عقل کے بل بوتے پر صراط مستقیم کو تلاش کرلینا عقل محدود کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اور بعض مفسرین نے اس آیت کو سابقہ آیت سے متعلق کرکے (اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَان اللّٰہِ کَمَنْۢ بَاۗءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاْوٰیہُ جَہَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ١٦٢۔) 3۔ آل عمران :162) سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات لی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے تابع ہوتا ہے۔ جب کہ خیانت کرنے والا اللہ کی ناراضگی حاصل کرکے جہنم میں اپنا ٹھکانا بناتا ہے اور یہ دونوں کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے نقیض ہیں۔ [١٥٩] یعنی وہ رسول بنی نوع انسان سے ہے۔ عربی ہے اور قریشی ہے۔ قریش کے لہجہ میں عربی بولتا ہے۔ تاکہ عرب لوگ اس کی بات کو سمجھ سکیں۔ وہ نہ فرشتوں کی نوع سے ہے نہ جنوں کی نوع سے تاکہ کوئی شخص اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے سے بچنے کی خاطر یہ نہ کہہ سکے کہ آپ تو مافوق البشر تھے۔ ہم انسان بھلا ان کی اتباع کیسے کرسکتے ہیں۔ [١٦٠] یہ آیت قرآن میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے ساتھ متعدد مقامات پر آئی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اور اسی طرح دوسرے انبیاء کی بعثت کے مندرجہ ذیل چار مقاصد ہیں۔ ١۔ اللہ کی کتاب جوں جوں نازل ہو وہ لوگوں کو پڑھ کر سنائے۔ تاکہ وہ بھی ان آیات کو سینوں میں اور مصاحف میں محفوظ کرسکیں۔ ٢۔ اپنے پیروکاروں کا تزکیہ ئنفس کرے۔ ان کے اعمال و افعال پر نظر رکھے۔ اور جہاں کہیں کوئی کمی، کو تاہی، یا غلطی نظر آئے، انہیں متنبہ کرے اور ان کی اصلاح کرتے ہوئے ان کی تربیت کرے۔ ٣۔ کتاب اللہ کی تعلیم دے یا سکھلائے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کتاب اللہ کو پڑھ کر سنا دینا اور بات ہے اور اس کی تعلیم دینا اور بات ہے۔ تعلیم دینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے معانی کی تشریح و تفسیر بھی بتلائے۔ صحابہ کرام (رض) کی زبان اگرچہ عربی ہی تھی۔ مگر بارہا ایسا ہوا کہ انہیں مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی تو آپ نے انہیں صحیح مفہوم سے آگاہ کیا اور بعض دفعہ خود بھی پوچھ لیا کرتے تھے۔ ٤۔ کتاب کے ساتھ انہیں حکمت بھی سکھلائے، حکمت بھی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک نظری دوسرے عملی، یعنی انہیں آیات اللہ کے اسرار و رموز سے بھی آگاہ کرے اور احکام الٰہی کو عمل میں لانے کا طریقہ یا طریقے بھی بتلائے اور خود کرکے دکھلائے۔ بالفاظ دیگر حکمت سے سنت بھی مراد لی جاسکتی ہے۔ گویا اس آیت میں اس فرقہ کا پورا پورا رد ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیثیت (معاذ اللہ) محض ایک چٹھی رساں کی تھی۔ جن پر کتاب نازل ہوئی۔ انہوں نے وہ کتاب امت تک پہنچا دی اور ان کا کام ختم ہوا۔ رہا اس کتاب پر عمل پیرا ہونا تو یہ کام ہر دور میں اس دور کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ سنت یا حدیث کی حیثیت محض اس دور کی تاریخ کی ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اپنے دور میں قرآنی احکام پر کیسے عمل کیا تھا۔ گویا ان کے نزدیک نہ حدیث حجت شرعیہ ہے اور نہ ہی اتباع یا اطاعت رسول دین کا لازمی حصہ ہے۔ ان کے خیال میں اطاعت رسول کا فریضہ صرف آپ کی زندگی تک ہی تھا۔ جبکہ اس آیت کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ محض رسول ہی نہیں بلکہ معلم، مفسر، مزکی اور کتاب اللہ کے ہر حکم کا طریق کار بتلانے والے بھی ہیں اور چونکہ آپ مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ اور خاتم النبیین بھی ہیں۔ لہذا آپ کا ایک ایک قول اور فعل قیامت تک مسلمانوں کے لیے واجب الاتباع ہے۔ رہے زمانہ کے تقاضے تو دراصل یہی عقل کا میدان ہے کہ انسان کتاب و سنت کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کا حل اس انداز سے تلاش کرے اور ایسی تدابیر اختیار کرے جس سے کتاب وسنت کی نص یا اصل پر زد نہ پڑتی ہو اور عقل کی اسی کاوش کا نام قیاس اور اجتہاد ہے۔ جس کا دروازہ تاقیام قیامت کھلا ہوا ہے۔ دور حاضر کے تقاضوں کے بہانے یا جدید نظریات سے مرعوب ہو کر سنت سے یا قرآن کی دور از کار تاویلات کسی مسلمان کا کام نہیں ہوسکتا۔