سورة العنكبوت - آیت 67

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

کیا ہماری قدرت کی اس نشانی کو نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن وحفاظت کا گھر بنادیا اور اس کے اردگرد لوگ لٹ جاتے ہیں کیا یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کو جھٹلاتے ہیں (٢٢)۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٩٩] مکہ اور اس کے مضافات کو اللہ تعالیٰ نے ہی حرم بنایا کہ عرصہ اڑھائی ہزار سال سے یہ لوگ اس پرامن حرم کے فوائد سے فائدے اٹھا رہے ہیں اور عربی قبائل کی لوٹ مار سے محفوظ اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر اسی وجہ سے انھیں عرب بھر میں سیاسی اقتدار حاصل ہے۔ انھیں دور دراز مقامات سے رزق بھی پہنچ جاتا ہے۔ اور بہت سے تجارتی فوائد ہی حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے کسی بت، لات، منات، ہبل یا کسی دوسرے بت میں یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اس خطہ ارضی کو پرامن حرم بنا سکتا۔ اللہ کی اس نعمت کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کے فرمانبردار بن کر رہتے۔ مگر یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا دوسرے معبودوں کو اللہ کا شریک بنا رہے تھے۔