سورة القصص - آیت 19

فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر جب موسیٰ نے اس قبطی پر حملہ کرنا چاہا جوان دونوں کا دشمن تھا تو اس نے کہا کیوں موسیٰ جس طرح تم نے کل ایک آدمی کو مارڈالا تھا کیا آج اس طرح مجھے بھی قتل کرنا چاہتا ہے،؟ تم زمین میں ظالم بن کررہنا چاہتے ہو امن دوست بننا تمہیں پسند نہیں؟

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٢٩] سبطی کو اس طرح ملامت کرنے کے بعد موسیٰ نے ارادہ کیا کہ قبطی کو پکڑ کر اس سبطی کو اس سے نجات دلائیں۔ مگر سبطی یہ سمجھا کہ موسیٰ نے چونکہ آج مجھے ہی ملامت کی ہے۔ لہذا مجھی پر ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں۔ لہذا وہ فوراً بک اٹھا اور کہنے لگا کہ موسیٰ کیا تم مجھے اسی طرح موت کے گھاٹ اتارنا چاہتے ہو جس طرح کل تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑے کی صورت میں کسی نہ کسی کو مار ڈالنا ہی جانتے ہو۔ ان کا مقدمہ سن کر ان میں صلح یا سمجھوتہ کرانا نہیں جانتے۔ قبطی نے جب سبطی کے منہ سے یہ بات سنی تو اس نے لڑائی جھگڑا تو وہیں چھوڑا اور ایک دم بھاگ کر فرعون اور اس کے اہلکاروں کو یہ اطلاع دے دی کہ کل جو قبطی قتل ہوا ہے اس کا قاتل موسیٰ ہے۔ گویا جس راز پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے۔ اسے اسی احمق سبطی نے فاش کر ڈالا جس کی حمایت میں آپ نے قبطی کو مارا تھا۔ جب فرعون کے اہلکاروں کو قتل کے مجرم کا پتا چل گیا تو موسیٰ کی گرفتار کا حکم صادر ہوگیا۔