سورة آل عمران - آیت 34

ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِن بَعْضٍ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

یہ ایسی نسل تھی جس کے افراد (نیکی اور اخلاص میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے، (١٠) اور اللہ ( ہر ایک کی بات) سننے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٣٦]عقیدہ الوہیت مسیح کا رد:۔ گویا سب انبیاء آدم، پھر نوح، پھر ابراہیم علیہم السلام کی اولاد میں تھے اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور پھر آل عمران سے تھے۔ لہٰذا وہ بھی انسان تھے۔ اللہ یا اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ اور سب انبیاء کو مذکورہ بالا تین انبیا کی اولاد سے مبعوث فرمانا ہی اللہ کی حکمت کا مقتضیٰ تھا اس کے باوجود جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ یا اس کا بیٹا قرار دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو خوب سن رہا ہے۔ ان دو آیات میں مسیحی عقائد کے رد کی تمہید بیان ہوئی ہے آگے تفصیلی ذکر آرہا ہے۔