سورة النمل - آیت 87

وَيَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ ۚ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو کوئی بھی آسمان میں اور زمین میں ہے سب گھبرا جائیں گے مگر ہاں جس کو خدا چاہے اور سب اللہ کے حضور عاجز بن کرآئیں گے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٩٢] معتبر روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ صور دوبارہ ہوگا۔ پہلی بار جب حضرت اسرافیل صور میں پھونکیں گے تو قیامت برپا ہوجائے گی اور تمام دنیا تباہ و برباد ہوجائے گی۔ یہ نظام کائنات بھی درہم برہم ہوجائے گا اور دوسری بار جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مزید تفصیل سورۃ انعام کی آیت نمبر ٧٣ کے تحت ملاحظہ فرمائیے۔ [٩٣] یہ ایماندار لوگ ہوں گے یا فرشتے مثلاً اسرائیل، میکائیل، جبرئیل وغیرہم۔ کیونکہ یہ نفخہ صور ان کی توقع کے مطابق ہوگا۔ اس لئے ان پر وہ دہشت طاری نہیں ہوگی جو منکرین حق پر ہوگی۔ یہ۔۔ کی رات ہے۔ کیونکہ نفخہ اول کے وقت ایماندار لوگ نہایت قلیل بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ میں یہ وضاحت آچکی ہے کہ قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔ اور نیک لوگ قیام قیامت سے پیشتر اٹھا لئے جائیں گے۔ [٩٤] دخر کے معنی میں عاجزی، ذلت اور حقات تین باتیں پائی جاتی ہیں اور داخر بمعنی عقل و ہوش کی کم مائیگی کی بنا پر نکو بن کر ذلت کی اطاعت قبول کرلینے والا ہے۔ یعنی ساری کی ساری مخلوق عاجز اور حقیر بن کر اللہ کے حضور پیش ہوجائے گی۔ اپنے آپ کو قصووار سمجھتے ہوئے یوں پیش ہوں گے۔ جیسے کوئی قصور وار غلام اپنے آقا کے سامنے پیش ہوتا ہے۔