سورة الفرقان - آیت 22

يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس روز گناہ گاروں کے لیے کوئی خوشی نہ ہوگی اور یہ کہیں گے ہمارے اور ان کے درمیان کوئی رکاوٹ ہوجائے (٦)۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣١] ان کے فرشتوں کے دیکھنے کی تین ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ دو دنیا میں اور ایک آخرت میں۔ دنیا میں ایسے لوگ اس وقت فرشتوں کو بچشم خود دیکھ لیتے ہیں جب وہ ان پر قہر الٰہی اور عذاب الٰہی لے کر نازل ہوتے ہیں۔ دوسرے اس وقت جب وہ ان کی جانیں نکالنے کے لئے ان کے پاس آئیں گے اور قیامت میں تو یہ ہر وقت ہی فرشتوں کو دیکھا کریں گے۔ جو بھی وقت اور جو بھی صورت ہو، ان کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی بلکہ جب بھی وہ ان کے پاس آئیں گے قہر الٰہی بن کر ہی آئیں گے۔ [ ٣٢] یہ محاورہ ہے۔ مجارہ ١ بمعنی پتھر اور حجر ہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو پتھر کی طرح سخت بھی ہو اور روک یا آڑ کا کام بھی دے۔ اہل عرب کی عادت تھی کہ جب اپنے کسی دشمن کو، جس سے انھیں تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہوتا، دیکھ کر، یا کسی دوسری آفت کو دیکھ کر حجرا محجورا کہنے لگتے۔ جیسے ہم کہتے ہیں ''اس سے اللہ کی پناہ'' یا ''اللہ اس سے ہمیں بجائیو'' تو سننے والا عموماً یہ قول سن کر تکلیف نہیں پہنچاتا تھا۔ ایسے مجرمین بھی جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے تو یہی الفاظ بول کر ان سے پناہ مانگیں گے لیکن اس دن انھیں کوئی پناہ نہ ملے سکے گی۔