سورة المؤمنون - آیت 96

ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۚ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر) برائی کو برائی سے نہیں بلکہ ایسے طرز عمل کے ذریعہ سے دور کر جو بہتر طرز عمل ہو (یعنی عفو و درگزر کر کے) ہم ان باتوں سے بے خبر نہیں جو یہ تیری نسبت کہتے رہتے ہیں۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٩٣] یعنی اگرچہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ آپ کے جیتے جی انھیں وہ عذاب چکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ مگر ہنوز وہ وقت نہیں آیا ابھی آپ کے لئے بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ آپ ان مشرکوں کے برے سلوک اور ناگوار اور تلخ باتوں کا جواب بھلائی سے دیں ابھی ان میں کئی لوگ ایسے موجود ہیں جن کے لئے ہدایت مقدور ہوچکی ہے۔ ربط مضمون کے لحاظ سے اس لکا مطلب یہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔ تاہم داعی حق کے لئے یہ ایک نہایت قیمتی اصول ہے اور اس کا نتیجہ ہمیشہ خوشگوار نکلتا ہے اسی اصول کو قرآن نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے۔ آپ برائی کا جواب بھلائی سے دیا کیجئے اس طرح تمہارا دشمن بھی تمہارا دلی دوست بن جائے گا'' (٤١: ٣٤) نیز یہ جملہ ایک ایسی آفاقی حقیقت Truth Universal ہے۔ جس کا ہر شخص، ہر حال میں اور ہر زمانہ میں تجربہ کرکے اس کے خوشگوار اثرات سے مستفید ہوتا رہا ہے اور ہوسکتا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اصول جتنا مفید ہے اتنا ہی اس پر عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ صاحب عزم انسان ہی اس پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔