سورة طه - آیت 110

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے گزر چکا سب کا وہ علم رکھتا ہے، مگر انسان اپنے علم سے اس پر چھا نہیں سکتا۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٧٩] اس آیت میں سفارش پر عائد کردہ پابندیوں کی وجہ بیان فرما دی گئی ہے کہ لوگوں کے اعمال اور ان کے حالات جن میں وہ اعمال سرزد ہوئے اور ان کی نیتوں کا علم تو صرف اللہ کو ہے۔ دوسرے کسی کو نہیں ہوسکتا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک شخص کسی افسر کو جاکر کہے کہ آپ کا فلاں ماتحت آدمی میرا دوست ہے لہذا اس کا فلاں قصور معاف کردیجئے تو وہ جواب میں کہے گا کہ آپ واقعی میرے دوست ہیں لیکن یہ شخص پہلے جتنے قصور کرچکا اس کا آپ کو علم ہے؟ اس کا ریکارڈ پہلے ہی بہت گندا ہے۔ لہذا اسے معاف کرنا بھی ظلم کے مترادف ہے۔ بالکل یہی اصول وہاں بھی کارفرما ہوگا یہ ممکن نہ ہوگا کہ کوئی بزرگ اللہ کے حضور یوں سفارش کرنے لگیں کہ حضور اسے معاف فرما دیں کیونکہ یہ میرا خاص آدمی ہے۔ اس طرح سفارش کے اس عقیدہ کی جڑ کٹ جاتی ہے جو عام لوگوں نے اپنی معبودوں یا پیروں سے وابستہ کر رکھا ہے کہ وہ چونکہ اللہ مقرب ہیں لہذا سفارش کرکے ہمیں بچا لیں گے۔