سورة طه - آیت 69

وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا ۖ إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ ۖ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

تیرے داہنے ہاتھ میں جو لاٹھی ہے فورا پھینک دے، وہ جادوگروں کی تمام بناوٹیں نگل جائے گی۔ انہوں نے جو کچھ بنایا ہے محض جادوگروں کا فریب ہے، اور جادوگر کسی راہ سے آئے کبھی کامیابی نہیں پاسکتا۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٤٨] شعبدہ بازی کا اطلاق :۔ بس تم اتنا کام کرو کہ اس میدان میں اپنا عصا پھینک دو۔ یہ عصا ایک بہت بڑا اژدھا بن کر ان سب نقلی اور مصنوعی سانپوں کو ہڑپ کر جائے گا اور اس میدان میں اس اژدھا کے سوا کوئی چیز نہ رہ جائے گی۔ جادوگروں کی شعبدہ بازیاں، ان کی لاٹھیاں اور رسیا کسی چیز کا وجود تک باقی نہ رہے گا۔ وجہ یہ ہے کہ بعض علماء نے تلقف ما ھنعوا کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ عصا سے بنا ہوا اژدھا جس طرف رخ کرتا اور جہاں جہاں پہنچتا وہاں سے شعبدہ کا اثر ختم ہوتا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ آخر میں جادوگروں کی وہ لاٹھیاں اور رسیاں ہی میدان میں رہ گئیں۔ جو جادوگر اپنے ساتھ لائے تھے۔ ہمارے خیال میں یہ دوسری توجیہ درست نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ تلقف کا معنی نگل جانا یا نوالہ بنا لینا تو لغوی لحاظ سے درست ہے لیکن یہ لفظ باطل کرنے یا بنانے کے معنوں میں نہیں آتا۔