سورة مريم - آیت 50

وَوَهَبْنَا لَهُم مِّن رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اپنی رحمت کی بخشش سے سرفراز کیا تھا، نیز ان سب کے لیے سچائی کی صدائیں بلند کردیں (جو کبھی خاموش ہونے والی نہیں)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٤٦] سیدنا ابراہیم کی تمام مذاہب میں یکساں مقبولیت :۔ تمام مذاہب و ملل ان کی تعظیم و توصیف کرتے ہیں اور انھیں سے اپنے اپنے مذہب کا رشتہ جوڑتے ہیں اور انھیں ذکر خیر سے یاد کرتے ہیں۔ جیسا کہ امت محمدیہ بھی ہمیشہ اپنی نمازوں میں رسول اللہ اور آپ کی آل پر درود پڑھتے ہیں تو ساتھ ہی سیدنا ابراہیم اور ان کی آل پر بھی درود پڑھتے ہیں۔ فی الحقیقت یہ سیدنا ابراہیم کی دعا ( وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ 84؀ۙ) 26۔ الشعراء :84) کی مقبولیت کا ثمرہ ہے۔