سورة الإسراء - آیت 95

قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغبر) کہہ دے اگر ایسا ہوا ہوتا کہ زمین میں (انسانوں کی جگہ) فرشتے بسے ہوتے اور اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم ضرور آسمان سے ایک فرشتہ پیغمبر بنا کر اتار دیتے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١١٣] رسول کا بشر ہونا کیوں ضروری ہے؟ چونکہ دنیا میں انسان آباد ہیں لہذا ان کے لیے رسول بھی انسان ہی ہونا چاہئے۔ وجہ یہ ہے کہ رسول کا کام اتنا ہی نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچا دے یا اس پیغام کی تشریح و توضیح کردے۔ بلکہ یہ کام بھی ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ احکام پر عمل کرکے دکھائے اور امت کو ایک عملی نمونہ بھی پیش کرے۔ اب فرض کیجئے ایک فرشتہ رسول بن کر آتا اور آدمی کی شکل میں آتا، وہ اللہ کا پیغام پہنچاتا اور ان احکام پر عمل کرکے بھی دکھلا دیتا۔ تو لوگ یہ کہنے میں حق بجانب ہوتے کہ یہ عملی نمونہ دکھانے والا تو فرشتہ تھا۔ اس میں نہ بشری کمزوریاں پائی جاتی تھیں نہ اسے بشری ضروریات کی احتیاج تھی۔ لہذا ہم اس فرشتے جیسے کام کیسے کرسکتے ہیں اور وہ ہمارے لیے نمونہ کیسے بن سکتا ہے۔ مزہ تو جب تھا کہ وہ ہماری طرح کا انسان ہوتا پھر ان احکامات پر عمل کرکے دکھاتا۔ (نیز اس سلسلہ میں سورۃ انعام کی آیت نمبر ٧ تا ٩ کے حواشی بھی ملاحظہ فرما لیجئے)