سورة ابراھیم - آیت 8

وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور وہ سب جو زمین میں بستے ہیں کفران نعمت کریں تو (اللہ کو اس کی کیا پروا ہوسکتی ہے؟) اللہ کی ذات تو بے نیاز اور ستودہ ہے (لیکن محرومی و ہلاکت خود تمہارے لیے ہوگی)

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[١٠] اللہ کی بے نیازی :۔ یعنی اللہ کی ناشکری کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا نہ ہی اس کی خدائی میں کچھ فرق آتا ہے نہ وہ کسی کے شکر کا محتاج ہے وہ ان سب باتوں سے بے نیاز ہے اس لیے کہ وہ اپنی ذات میں ہی قابل ستائش ہے اس کے کارنامے ہی ایسے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز اس کے گن گا رہی ہے چنانچہ صحیح مسلم میں ایک قدسی حدیث ان الفاظ میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے جن و انس سب کے سب اعلیٰ درجے کے متقی بن جائیں تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہیں ہوجاتا۔ اور اگر سب کے سب اگلے پچھلے جن و انس ایک بدترین شخص جیسے ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ برابر بھی کمی واقع نہیں ہوتی‘‘ (مسلم، کتاب البر و الصلۃ۔ باب تحریم الظلم)