سورة یوسف - آیت 83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(چنانچہ بھائیوں نے ایسا ہی کیا اور کنعان آکر یہ ساری باتیں باپ سے کہہ دیں) اس نے (سن کر) کہا، نہیں یہ تو ایک بات ہے جو تمہارے جی نے تمہیں سججھا دی ہے (یعنی بنیامین کا چوری کرنا) خیر ! میرے لیے صبر کے سوا چارہ نہیں، ایسا صبر کہ خوبی کا صبر ہو، اللہ (کے فضل) سے کچھ بعید نہیں ہے کہ وہ (ایک دن) ان سب کو میرے پاس جمع کردے، وہی ہے جو (سب کچھ) جاننے والا (اور اپنے تمام کاموں میں) حکمت رکھنے والا ہے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٨٠] گمشدہ سامان کی برآمدگی سے چوری ثابت نہیں ہوجاتی :۔ یہ بعینہ وہی الفاظ ہیں جو سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اس وقت بھی کہے تھے جب برادران یوسف نے یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالنے کے بعد رات کو روتے ہوئے باپ کے پاس آئے تھے اور ایک جھوٹا سا واقعہ بنا کر انھیں سنا دیا تھا۔ اب کی بار آپ نے بیٹوں سے پورا واقعہ سننے کے بعد جو انھیں تنبیہ کی تو اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ کیا تم یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ کسی شخص کے سامان سے کسی گم شدہ چیز کا برآمد ہونا اس بات کا یقینی ثبوت کب ہوتا ہے کہ اس شخص نے ضرور چوری کی ہے۔ ممکن ہے کسی دوسرے نے اس کے سامان میں وہ چیز رکھ دی ہو؟ پھر تم نے یوسف پر چوری کا مزید الزام لگا کر بن یمین پر لگے ہوئے الزام کو پختہ تر بنا دیا۔ اس تنبیہ سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے ایک یہ کہ سیدنا یعقوب علیہ السلام کو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ میرے یہ بیٹے چور نہیں ہوسکتے اور دوسرے یہ کہ برادران یوسف اپنے ان دونوں چھوٹے بھائیوں سے ہمیشہ بدگمان ہی رہتے تھے۔ [٨١] سب سے مراد یوسف بن یمین اور ان کا وہ بڑا بھائی ہے جو شرم و ندامت کے مارے مصر میں ہی رہ گیا تھا۔