سورة البقرة - آیت 153

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مسلمانو ! صبر اور نماز (کی معنوی قوتوں) سے سہارا پکڑو۔ یقین کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٩٢] مشکل اور آڑے وقت میں صبر اور نماز سے مدد لینے کا حکم پہلے اسی سورۃ کی آیت نمبر ٤٥ میں بھی گزر چکا ہے۔ اس مقام پر اس کی مناسبت یہ ہے۔ تحویل قبلہ کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو جس امامت کے لیے تیار کرنا مقصود ہے تو اس کی راہ میں بے شمار مشکلات اور مصائب پیش آنے والے ہیں۔ لہذا اے مسلمانو! ایسے اوقات میں صبر اور نماز سے کام لو۔ صبر سے انسان بہت سی مشکلات پر قابو پا لیتا ہے اور نماز ان حالات میں نفس انسانی کو اطمینان بخشتی ہے۔ بندہ کا اللہ پر توکل بڑھتا ہے اور یہی توکل مشکلات میں ثابت قدم رہنے کے لیے ایک بہت بڑا سہارا ثابت ہوتا ہے۔ [ ١٩٣] صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت کا معنیٰ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعانت اور توفیق نصیب ہوتی رہتی ہے۔ جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور یہ بات ہر انسان کو اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر بھی معلوم ہو سکتی اور ہوتی رہتی ہے۔