سورة البقرة - آیت 106

مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ہم اپنے احکام میں سے جو کچھ بدل دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس کی جگہ اس سے بہتر یا اس جیسا حکم نازل کردیتے ہیں (پس اگر اب ایک نئی شریعت ظہور میں آئی ہے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پو لوگوں کو حیرانی ہو) کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کی قدرت سے کوئی بات باہر نہیں

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٢٥] یہود جن جن طریقوں سے لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ قرآن کو مشکوک قرار دیا جائے۔ وہ لوگوں سے کہتے کہ اگر قرآن بھی منزل من اللہ ہے اور تورات تو منزل من اللہ ہے ہی۔ پھر قرآن اور تورات کے احکام میں اختلاف کیوں ہے؟ اس اعتراض کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ قرآن میں ایک حکم نازل ہوتا ہے پھر اس کی جگہ کوئی اور حکم آ جاتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کو یہ علم نہیں کہ میں پہلے کیا حکم دے چکا ہوں اور اب کیا دے رہا ہوں؟ یہود کے ایسے ہی اعتراضات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے اور فرمایا کہ عیب نہ پہلے حکم میں تھا اور نہ دوسرے حکم میں ہے۔ حالات اور موقع کی مناسبت سے جس طرح کے احکام کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے ہی دیئے جاتے ہیں اور تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ اللہ مالک الملک ہے وہ جیسے چاہے حکم دے سکتا ہے۔ پہلے کے احکام منسوخ بھی کرسکتا ہے اور نئے دے بھی سکتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی آیات میں تبدیلی دو طرح سے قرآن میں واقع ہوئی ہے۔ ایک نسخ سے دوسرے بھلا دینے سے۔ یہاں ہم ان دونوں قسموں کی تفصیل بیان کریں گے : متقدمین نے نسخ کا مفہوم بہت وسیع معنوں میں لیا۔ وہ احکام میں تدریج کو بھی نسخ کے معنوں میں لیتے تھے اور اس طرح انہوں نے آیات منسوخہ کی تعداد پانچ سو تک شمار کردی جب کہ احکام میں تدریج پر نسخ کا اطلاق درست نہیں۔ نسخ سے مراد کسی حکم کا اٹھ جانا ہے اس لحاظ سے شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے آیات منسوخہ صرف پانچ شمار کی ہیں۔ جن کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ ١۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ١٨١ میں فرمایا کہ آیت ( کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَکَ خَیْرَۨا ښ الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ بالْمَعْرُوْفِ ١٨٠؁ۭ) 2۔ البقرۃ :180) اس آیت کی رو سے میت پر والدین اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے حق میں مرنے سے پہلے وصیت کرنا فرض تھا۔ پھر جب سورۃ نساء کی آیت نمبر ١١ اور ١٢ میں اللہ تعالیٰ نے میراث کے حصے خود ہی والدین اور اقربین کے حق میں مقرر فرما دیئے تو اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا اور میت پر وصیت کرنا فرض نہ رہا۔ بلکہ اب وہ صرف غیر ذوی الفروض کے حق میں ہی وصیت کرسکتا ہے اور وہ بھی زیادہ سے زیادہ تہائی مال تک، نیز یہ وصیت فرض نہیں بلکہ اختیاری ہے اور مستحب ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء کی آیت نمبر ١٥ میں زانیہ عورت کی یہ سزا مقرر فرمائی کہ بقیہ عمر اسے گھر میں مقید رکھا جائے۔' اور ساتھ ہی یہ بھی ذکر فرمایا کہ شاید اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی نئی سزا مقرر فرما دے۔ پھر جب سورۃ نور نازل ہوئی جس میں زانی مرد کو اور زانی عورت کو سو سو کوڑے مارنے کا ذکر ہے تو اس حکم سے پہلی سزا کا حکم اٹھ گیا۔ یعنی وہ منسوخ ہوگئی۔ ٣۔ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٤٠ کی رو سے میت کے وارثوں پر فرض تھا کہ وہ اس کی بیوہ کو ایک سال گھر سے نہ نکالیں اور اس کا خرچ برداشت کریں۔ بعد میں جب بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر ہوگئی۔ نیز آیت میراث کی رو سے خاوند کے ترکہ میں بیوی کا حصہ بھی مقرر ہوگیا تو اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا۔ اب بیوہ کے حق میں تو یہ حکم ہوا کہ وہ بس عدت کے ایام اپنے مرنے والے شوہر کے ہاں گزارے۔ بعد میں وہ آزاد ہے اور اس دوران نان و نفقہ بھی وارثوں کے ذمہ اور ترکہ سے ہی ہوگا اور سال بھر کے خرچہ کا مسئلہ میراث میں حصہ ملنے سے حل ہوگیا۔ مندرجہ مثالیں ایسی ہیں جن میں سابقہ آیت کا حکم قطعاً منسوخ ہے۔ اب ہم کچھ ایسی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ جن میں دونوں قسم کے حکم حالات کے تقاضوں کے تحت ساتھ ساتھ چلتے ہیں مثلاً: ١۔ سورۃ انفال (جو جنگ بدر کے فوراً بعد نازل ہوئی تھی) کی آیت نمبر ٦٥ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جرأت ایمانی کا معیار مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک مسلمان کو دس کافروں پر غالب آنا چاہیے۔ یہ حکم ان مسلمانوں کے لیے تھا جو علم و عمل میں پختہ اور ہر طرح کی سختیاں برداشت کرچکے تھے اور ان کا اللہ تعالیٰ پر توکل کامل تھا۔ بعد میں اسلام لانے والے مسلمان جن کی تربیت بھی پوری طرح نہ ہوسکی تھی۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے معیار میں کافی تخفیف کرتے ہوئے اگلی آیت میں فرمایا کہ ان میں سے بھی ایک مسلمان کو کم از کم دو کافروں پر ضرور غالب آنا چاہیے۔ اب اس بعد والے حکم سے پہلا حکم منسوخ نہیں ہوا۔ بلکہ جب بھی کسی خطہ میں تحریک جہاد شروع ہوگی تو حالات کے مطابق دونوں قسم کے احکام لاگو ہوں گے۔ ٢۔ سورۃ محمد کی آیت نمبر ٤ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنگ کے بعد جنگی قیدیوں کو خواہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا احسان رکھ کر۔' اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے سے منع فرما دیا ہے۔ دوسری طرف سورۃ احزاب کی آیت نمبر ٥٠ کی رو سے عام مسلمان تو درکنار خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے بلکہ لونڈیوں سے تمتع کی بھی اجازت فرما رہے ہیں اور ان دونوں طرح سے احکام میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کا ناسخ نہیں ہے۔ بلکہ حالات کے تقاضوں کے مطابق دونوں میں سے کسی نہ کسی پر عمل درآمد ہوگا اور ایسی مثالیں قرآن میں اور بھی بہت ہیں۔ آیات میں تبدیلی کی دوسری صورت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی کہ ہم اس آیت یا اس جملہ کو بھلا ہی دیتے ہیں۔ جیسا کہ سورۃ اعلیٰ میں فرمایا : آیت ( سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰٓی ۝ ۙ) 87۔ الأعلی:6) یعنی ہم تمہیں پڑھائیں گے جسے تم بھولو گے نہیں مگر جو اللہ چاہے۔' اور اس بھلانے کی صورت یہ ہوتی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر سال رمضان میں حضرت جبریل (علیہ السلام) کے ساتھ نازل شدہ قرآن کریم کا دور کیا کرتے، اس دوران جن الفاظ یا جس جملہ کو منسوخ کرنا اللہ کو منظور ہوتا تھا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھول جاتے تھے اور جبریل (علیہ السلام) بھی اس کا تکرار نہیں کرتے تھے۔ ایسے نسخ کی بھی چند مثالیں درج ذیل ہیں۔ ١۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٦ میں فرمایا کہ 'اللہ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ مچھر یا اس سے بھی کسی حقیر مخلوق کی مثال بیان کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی آیت بھی نازل کی تھی جس میں مچھر کی مثال بیان کی گئی تھی۔ جسے کافروں نے اضحوکہ بنایا تھا اور چونکہ وہ مچھر کی مثال والی آیت قرآن میں موجود نہیں۔ لہذا اس کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ بھلا دی گئی تھی۔ ٢۔ سورۃ نساء کی آیت نمبر ٢٤ میں آیت (فَـمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْھُنَّ 24؀) 4۔ النسآء :24) کے بعد آیت (الیٰ اَجَلٍٍ مُسَمًّی) کے الفاظ بھی نازل ہوئے تھے جس کی رو سے مجاہدین کے لیے محاذ جنگ کے دوران متعہ حلال ہوتا رہا۔ لیکن بالآخر اس کی ابدی حرمت ہوگئی تو یہ آخری الفاظ بھی اللہ تعالیٰ نے بھلا دیئے اور شامل قرآن نہ ہو سکے۔ْ، ٣۔ آیت رجم بھی اس قبیل سے ہے جس کے متعلق حضرت عمر (رض) نے اپنی آخری زندگی کے ایک خطبہ میں برسر منبر فرمایا تھا۔ 'اس کتاب اللہ میں رجم کے حکم کی بھی آیت تھی۔ جسے ہم نے پڑھا، یاد کیا۔ اور اس پر عمل بھی کیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی رجم کیا۔ مجھے ڈر ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ ہم رجم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اس فریضہ کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتارا چھوڑ کر مر جائیں۔ کتاب اللہ میں رجم کا حکم مطلق حق ہے اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو۔ خواہ مرد ہو یا عورت، جبکہ اس کے زنا پر کوئی شرعی ثبوت یا حمل موجود ہو۔ (بخاری، کتاب المحاربین۔ باب رجم الحبلیٰ) رہی یہ بات کہ اگر یہ آیت منسوخ ہوگئی یا بھلا دی گئی تو اس کا حکم کیسے باقی رہ گیا۔ یہ تفصیل سورۃ نور کی آیت نمبر ٢ کے تحت ملاحظہ فرمائی جائے۔ یہاں صرف یہ بات چل رہی ہے کہ منزل من اللہ وحی میں سے اللہ کی حکمت کے تحت کچھ آیات یا جملے یا الفاظ بھلا بھی دیئے گئے اور کچھ احکام منسوخ بھی ہوئے ہیں۔ چونکہ مسلمانوں میں بھی ایک فرقہ قرآن میں کسی طرح کے نسخ کا قائل نہیں لہذا یہ مثالیں پیش کرنا ضروری سمجھا گیا، اور ان پر اکتفا کیا گیا۔ حالانکہ قرآن میں ایسی اور بھی مثالیں موجود ہیں۔ بعض روایات میں آیا ہے بعض صحابہ (رض) کہتے تھے کہ ہم فلاں آیت پڑھا کرتے تھے جو بعد میں منسوخ ہوگئی۔ ان روایات کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ بعض دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی آیت کی تشریح میں کوئی جملہ فرما دیا لیکن صحابہ (رض) نے اسے آیت کا حصہ ہی سمجھ لیا، پھر جب ایسے جملوں کا قرآن کے ان اجزاء سے مقابلہ کیا گیا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوائے تھے۔ تب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معلوم ہوا کہ وہ جملے قرآن کی آیت کا حصہ نہیں تھے اور اس کی بھی کئی مثالیں احادیث میں موجود ہیں۔