سورة الاعراف - آیت 173

أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّن بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

یا کہو خدایا ! شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادوں نے کیا، ہم ان کی نسل میں بعد کو پیدا ہوئے (اور لاچار وہی چال چلے جس پر پہلو کو چلتے پایا) پھر کیا تو ہمیں اس بات کے لیے ہلاک کرے گا جو (ہم سے پہلے) جھوٹی راہ پر چلنے والوں نے کی تھی؟

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٧٦] عہدِالست اور اتمام حجت :۔ اس ازلی عہد کی اللہ تعالیٰ نے دو اغراض بیان فرمائیں ایک یہ کہ انسان پر اتمام حجت ہوجائے اور کوئی مشرک، ملحد، کافر یا نافرمان انسان قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو اس حقیقت کا پتہ ہی نہ چل سکا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس عہد کو سمجھنے کی استعداد بھی انسان کے اندر رکھ دی ہے اور خارج میں انبیاء علیہم السلام اور کتابیں بھی بھیج دیں اور دوسری یہ کہ انسان اپنی سابقہ نسلوں پر یا بگڑے ہوئے ماحول پر اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ہر شخص سے یہ عہد انفرادی طور پر لیا گیا تھا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اصل میں مشرک یا قصوروار تو ہمارے بڑے بزرگ تھے اور ہمیں محض ان کی اولاد ہونے کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ معتزلہ کا اس عہد الست سے انکار اور اس کی تردید :۔ عہد الست کے وقت تمام بنی آدم کی ارواح کو حاضر کرنے کا قصہ بہت سی کتب احادیث مثلاً ترمذی، ابو داؤد، مالک اور احمد میں کئی صحابہ سے منقول ہے اس کے باوجود معتزلہ نے اس قصہ کا انکار کیا ہے اور ایسی احادیث کو خبر واحد کی بنا پر رد کردیا ہے وہ اس آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت اس طرح نکالی کہ وہ بصورت نطفہ پشت آباء میں تھے۔ پھر وہاں سے اپنی ماؤں کے رحموں میں آئے پھر ان کو علقہ، پھر مضغہ وغیرہ مراحل طے کرا کے کامل الخلقت بنا کر ماؤں کے پیٹ سے نکالا پھر عقل و حواس عطا کیا جس سے وہ کائنات میں غور کر کے اس کی وحدانیت پر دلائل قائم کرنے کے قابل ہوئے۔ سو یہی دلائل گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عہد اور خود ان کو اس بات پر گواہ بنانا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کائنات میں ایسے دلائل پیدا کرنا ہی گویا اقرار لینا اور ان کا اس حالت میں زبان حال سے اقرار کرلینا اور گواہ بننا ہے۔ معتزلہ اپنے اس مطلب کے حق میں دو دلائل پیش کرتے ہیں ایک نقلی، دوسری عقلی۔ نقلی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں آدم (علیہ السلام) کا ذکر ہے اسی طرح بنی آدم کی وجہ سے من ظہورہم کے الفاظ آئے ہیں اگر یہ قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) سے ہی متعلق ہوتا تو من ظہور ہم کی بجائے من ظہرہ آنا چاہیے تھا۔ ان کی اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ سلسلہ وار ہر ایک نبی کی پشت سے اس کی اولاد نکالی جو تاقیامت پیدا ہونے والی ہے۔ مثلاً زید کو عمرو کی پشت سے اور عمرو کو اس کے باپ خالد کی پشت سے علیٰ ہذا القیاس تو لامحالہ اوپر کی جانب سیدنا آدم (علیہ السلام) پر ہی یہ سلسلہ منتہی ہوگا کیونکہ سب بنی آدم کے وہی باپ ہیں یعنی آدم (علیہ السلام) کی اولاد پھر اس کی اولاد علیٰ ہذا القیاس تمام بنی آدم کی ارواح حاضر کرلی گئیں جن میں آدم (علیہ السلام) بھی شامل اور موجود تھے اور قیامت تک ان کی ہونے والی ساری اولاد بھی۔ اب اگر آدم (علیہ السلام) کے اور من ظہرہ کے الفاظ ہوں تو بھی یہی مفہوم نکلتا ہے جو بنی آدم اور من ظہورہم کے الفاظ آنے سے نکلتا ہے گویا الفاظ کے اختلاف کی وجہ سے مفہوم میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اور ان کی عقلی دلیل یہ ہے کہ عہد تو اہل عقل و ادراک سے لیا جاتا ہے اور ارواح کو عقل و ادراک نہیں تھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہم کو یاد بھی ہونا چاہیے تھا حالانکہ ایسا عہد کسی کو یاد نہیں اس دلیل کا جواب اوپر دیا جا چکا ہے۔ ان دو دلائل کے بعد معتزلہ نے جو اس آیت کا مطلب پیش فرمایا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کائنات میں دلائل پید اکر دینا ہی گویا اقرار لینا ہے اور لوگوں کا یا نبی آدم (علیہ السلام) کا اس حالت میں زبان حال سے اقرار کرلینا اور گواہ بننا ہے۔ بالفاظ دیگر کوئی واقعہ بھی ظہور میں نہیں آیا۔ اللہ نے کائنات پیدا کردی تو اللہ کا اقرار لینا ہوگیا اور لوگوں نے اس کائنات کو دیکھ لیا تو یہ ان کا اقرار کرلینا اور گواہ بننا ہوگیا اس توجیہہ میں جتنا وزن ہے وہ آپ خود ہی ملاحظہ فرما لیجئے۔